تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 129
۱۳۵ تجربہ گا ہیں یونیورسٹی کمیشن کے آنے تک سامان اور تجربات سے پوری طرح کیس ہو جائیں گی لیے ربوہ میں ماہ ثبوت تو برش سے لے کہ ماہ نبوت انو بران یونیورسٹی کے امتحانوں میں ہیں یہ کالج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی براہ راست نگرانی اور کالج کے نوشکن نتائج قیادت میں سرگرم عمل رہا۔اس زمانہ میں کالج نے اپنے عظیم المرتبت اور جلیل القدر پرنسپل کے زیر سایہ علم وعمل کے میدان میں نمایاں ترقی کی اور بالخصوص یو نیورسٹی کے امتحانات میں اس کے نتائج سال بسال نهایت در جعدہ نوشکن، مسرت انزا اور شاندار رہے اور اس کے طلبہ نے صوبہ بھر میں امتیازی پوزیشن حاصل کی ہے نے یہ سطور شروع ماه و فار بھلائی ریش میں لکھی جا رہی ہیں ؟ ر مہیش میں ایف اے کے امتحان میں منور احمد صاحب سعید صوبہ بھر میں اول اور بی نہ آپیس رہی ہیں ی تفصیل یہ ہے " بمجازا الرحمن صاحب سوم رہے۔رش میں محمد سلطان صاحب اکبر نے بی۔اے کے امتحان میں عربی پاس کورس اور عربی آنرز میں اول رہنے پر طلائی تمغہ حاصل کیا اور افتخار احمد صاحب شہاب یو نیورسٹی بھر کے انگریزی کے امتحان میں اول رہے۔7149--91 مام مہش میں ہائر سیکنڈری امتحان کے پری میڈیکل گروپ میں حمید احمد خاں صاحب پنجاب بھر میں اول رہے HUMANITIES GROUP کے طلبہ میں قریشی اعجاز الحق صاحب نے اول پوزیشن حاصل کی۔اسی طرح بھی۔ایس سی کے امتمان میں سید امین احمد صاحب فرکس کے مضمون میں یونیورسٹی میں اول رہے۔71941-47 ہوش میں ہیں۔اسے سال اول کے امتحان میں اعجاز الحق صاحب قریشی نے یونیورسٹی میں دوم پوزیشن حاصل کی اسی طرح ہائر سیکنڈری امتحان میں عطاء المہیب صاحب راشد نے بھی کامیاب ہونے والے طلبہ میں امتیازی مقام حاصل کیا۔مشن میں اعجاز الحق صاحب قریشی بی۔اے کے امتحان میں یونیورسٹی بھر میں اول آئے۔اہش میں ایم۔اسے عربی پریوس میں چودھری محمد صدیق صاحب اول اور چودھری ناصرالدین صاحب اور بشارت الرحمن صاحب دوم رہے۔عطاء المجیب صاحب راشد نے بی۔اے سال دوم عربی میں اول رہ کر دو طلائی تمھتے مالیہ کوٹلہ میڈل اور خلیفہ محمد حسن جو بلی گولڈ میڈل حاصل کئے۔اور اعجاز الحق قریشی (ہسٹری آنرز سال سوم میں یونیورسٹی میں اول رہے۔51970-14 امش می پہلی بار کالج کے طلباء ایم۔اسے عربی کے امتحان میں شامل ہوئے اور سارہ سے خلیفہ اعلیٰ غیروں سے کامیاب ہوئے اور چوہدری محمد صدیق صاحب یونیورسٹی میں اول قرار پائے، اسی طرح تین اور طلبہ نے تعمیری چو تھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کی۔یتکار مہیش میں کالج کی دوسری ایم۔اے کلاس کا نتیجہ بھی سو فی صد رہا۔نیز یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی پہلی تین پوزیشین طلبہ تعلیم الاسلام کالج کے حصہ میں آئیں یعنی قریشی مقبول احمد صاحب اول ، عطاء المجیب صاحب را شد دوم اور سید عبدالھی صاحب سوم آئے اور ایک طالب علم کے سوا جس نے سیکنڈ ڈویژن کی باقی سب نے فرسٹ ڈویژن میں امتحان پاس گیا۔اسی طرح عنایت اللہ صاحب جنگلا پنجاب یونیورسٹی میں ایم۔اسے اقتصادیات میں فرسٹ ڈویژن لے کر اول آئے۔تعلیم الاسلام کالج کی مطبوعہ رپورٹوں )ریش تا پیش) سے ماخوذ)