تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 130 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 130

کالج میں مشہور گلی اور غیرملکی شخصیتوں کی ایم ایلام اسلام کا ایک علمی تقریبات میں نامور ملکی اور غیر ملکی شخصیتوں کی آمد کا جو سلسلہ قبل ازیں جاری ہو چکا تھا وہ ربوہ میں حیرت انگیز حد تک وسعت پکڑا گیا حتی کہ امریکہ، یورپ اور روس کے بعض ممتاز شہرہ آفاق اور بین الاقوامی شہرت کے حامل سائنسدان بھی اس علمی ادارہ کی شہرت سے متاثر ہو کر کھینچے آنے لگے چنانچہ اس ضمن میں بعض نامور اشخاص کی ایک مختصر فہرست دی جاتی ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی براہ راست قیادت کے مبارک دور میں یہاں پہنچے اور جنہوں نے بذریعہ تقریر اپنے تجربات و معلومات سے اساتذہ اور طلبہ کو متمتع ہونے کا موقعہ دیا ائیے ڈاکٹر ہیں۔ایل ٹیٹس ہا ہوں۔اطالوی مستشرق پروفیسر اے بوسانی، روسی سائنسدان برونون ( پروفسیر لینن گراڈ یونیورسٹی ڈائریکٹر انسٹی چیوٹ آف فزیالوجی اکیڈمی آف سائنستر 0۔5۔5) ، امریکی سائنسدان ای سی سٹیکمین و پر غیر مرئی میناسوٹا یونیورسٹی امریکہ وسائنٹیفک ایڈوائزر راک فیلر فاؤنڈیشن ) ، میجر عثمان بیگ آفندی آن ترکی۔میجر جنرل اکبر خان ، مسٹر تھیوڈور ، ڈاکٹر " محمد عوده مدیر اجمہوریہ مصر مرغوب صدیقی صاحب صدر شعبہ جو تلزم پنجاب یونیورسٹی ، سردار دیوان سنگھ جبر ، صاحب مفتون ایڈیٹر ریاست پھلی ، ڈاکٹر ای ٹی ہے۔روز منتقل کیمبرج یونیورسٹی ، ستر میری مسلول سابق پر خیر برمنگھم یونیورسی ، انور عادل صاحب سکرٹری تعلیم مغربی پاکستان ، ڈاکٹر سی ولیم گرک مشیر ثقافتی اور امریکی کونسل ، پر وفیسر سٹرن (روسی سائنس اکیڈمی کے نمبر دیا بائے بیٹنگ FATHER OF SPUTNIK فلائٹ لیفٹینٹ ایم ڈبلیو بناری مولانا ابوالہاشم بنعال رکن اسلامی مشاورتی کونسل پاکستان چوہدری محمد ظفر الله خان صاحب بھی عالمی عدالت انصاف ، مولانا صلاح الدین احمد صاحب ایڈیٹر ادبی دنیا ، ڈاکٹر وزیرہ آنا 71404 ده اخبار الفضل اسم صلح جنوری و کم تبلیغ فروری پر مہش میں ان سائنسدانوں کی آمد پر خبر شائع کی گئی بیس پچر ہفت روزہ المنیر لائلپور نے ربوہ کی سیر کے کالم میں لکھا " تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں۔اور دوسری جانب سے کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا شہداء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو۔۔۔۔ربوہ کے کالج ہائی سکول اور پرائمری مدارس میں سینکڑوں مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں" (شماره بابت ۲۳ فروری ۹۵ د صفحه ۱ کالم ۳ ) : ۱۰ میں کیا جا چکا ہے۔اور کالج کی آل پاکستان اردو کانفرنس میں شریک ادباء کی تفصیل مستقل عنوان کے تحت الگ دی جارہی ہے