تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 127 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 127

۱۲۳ میں شریک ہونے اور انفرادی اور مجموعی طور پر کثرت انعام حاصل کرنے لگے جس کی تفصیل کالج کی مطبوعہ سلطانہ رپورٹوں میں موجود ہے۔*147۔01947 ہ ہش سے کالج میں ریاضی ( آنرز) کیمیا (آنرز) اور شماریات کی تعلیم کا اجراء ہوا ی اسلامی میں بی ایس سی باٹنی اور بی ایس سی، زوالوجی کی کلاستر بھی کھل گئیں۔اسی زمانہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی نے کالج میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے لئے ایک عظیم انسان منصوبہ تیار فرمایا جو خدا کے فضل وکرم سید نا المصلح الموعود کی توجہ اور آپ کی ذاتی توجہ، دلچسپی اور رہنمائی کی بدولت نہایت برق رفتاری کے ساتھ کامیابی کے زینے طے کر رہا ہے۔بہاری مراد 1971-91 جدید ڈگری کالج سے ہے جس کی تفصیلی حکیم است اہش میں بروئے کار آئی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس کی سالانہ رپورٹ میں فرمایا :۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو نظام تعلیم کے نئے دور میں تعلیم الاسلام کالج سابقون الاولون میں شمار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز کالج کی تقسیم ) BI FURACTION) کے بعد جو عنقریب ہونے والی ہے ڈگری اور پوسٹ گریجوایٹ کلاسیں جلد ہی اپنی نئی عمارت میں منتقل ہو جائیں گی۔یہ سال تو کالج کے لئے زمین ، عمارت کے نقشوں اور دیگر کوائف کی تفاصیل سے متعلق فیصلوں ہی میں گذرا ہے۔اس وقت کا لج کیمپس کے گرد دیوار بن رہی ہے۔ٹیوب ویلوں کے لئے آزمائشی کھدائی کی جا سکی ہے۔نقشے بن چکے ہیں اور انشاء اللہ العزیز تعمیر کا کام بھی جلد ہی پوری تیز رفتاری سے شروع ہونے والا مہند۔یہ دورِ جدید کا لج کی زندگی میں ایک عہد آفریں اور خوشسکن انقلاب کا حامل ہوگا است مہیش میں کالج کیمپس کی اصل عمارت کی تعمیر شروع کر دی گئی۔اس عظیم علمی منصوبہ پر ماہ اران بار ش تک، نو لاکھ روپیہ کے اخراجات ہوئے۔سائنس بی بار ٹرینہ کی ورکشاپ تو اسی سال مکمل البته حاشیه صفحه گذشته عطا فرماتے رہے۔بچو کی تعداد زیادہ ہوتی تھی اس نے کبھی نچلی منزل کے صحن میں احاطہ پرائیویٹ سکرٹری کے آگے یا تجھے اور کبھی اوپر ملاقات کے مکرے میں کرسیاں لگا دی جاتیں اور ایک کلاس روم کا ماحول پیدا ہو جاتا حضور حالات دریافت فرماتے، پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔جو نبض رفتہ گھنٹوں جاری رہتا۔طلبہ ہمیشہ ایک عظیم الشارع روحانی اور علمی رساندہ سے المنش اندوز ہو کر یاسر نکلتے اور اگلے سال پھر آنے کی آرزو لے کر واپس گھروں کو لوٹتے۔طلباء میں مستنصب اور محجبات بھی ہوتے مگر کوئی ایک طالب علم بھی ایسا نہ تھا ہے حضور کے تجر علی اور شگفتہ مزاجی سے متاثر نہ ہوتا " نه سالانه رو نداد تعلیم الاسلام کا کے سات له مش صفحه ۲ به