تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 126 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 126

۱۲۲ سید مقبول احمد صاحب ایم ایس سی محمد سرور صاحب ایم۔اے محمد شریف خان صاحب ایم ایس سی عبد الشکور صاحب اسلم ہی۔ایس سی نے تے ه عبد الرشید صاحب فنی انبالوی - ایم ایس سی سيد محمد يحيي صاحب رشید احمد صاحب جاوید ایم۔اے 0 اعجاز الحق قریشی صاحب ایم۔اے ه محمد انورشاه صاحب ارشد ترمذی عبد الجليل صاحب صادق محمد اکرم صاحب ایم ایس سی دماه تبوک استبه 1 میش ( 4 1 " زیادہ اتحاد ام الکترونیه دماه نبوت / نومبر خود الله دماه تبوک استمبر میش) > میشه د ماه نبوت / نومبر { ( ( تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگی بیچنا نچہ یہ عظیم درسگاہ ربوہ میں منتقل ہونے کے بعد نہایت تعلیم السلام کالج کے تدریسی وتعلیمی نظام ا ا میں بتدریج وسعت اور جدید ڈگری کالج کی تعمیر یہاں کر کیمیاء کی تدریس اور پریکٹیکل کا انتظام (بی ایس سی کے معیار تک) پہلے سے بھی زیادہ عمدگی کے ساتھ ہونے لگا۔ہش ہی میں حضرت سیدنا المصلح الموعود کی خصوصی اجازت سے آل پاکستان بین انگلیاتی مباحثوں کا آغاز کیا گیا۔علاوہ ازیں کالج کے طلبہ دیگر اداروں کے کل پاکستان بین الکلیاتی سالانہ مباحثوں نے بیشتر ازیں شعبہ بیالوجی میں ڈیں نسٹریٹر کے فرائض انجام دیتے رہے ہ نے اس قبیل کی انٹریٹ کی حیثیت کالج کی خدمت بجا ر ہے تھے۔سے پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب ایم ایس سی پی۔ایچ۔ڈی ڈرہم جنہوں نے بارش سے لیکر یہ علیہ کی ایک سٹوڈنٹس یونین کی نگرانی کے فرائض انجام دینے اپنے ایک بیان میں لکھتے ہیں : " سب سے پہلا ملا نہ لجنہ اماء اللہ کے نزل میں منعقد ہوا۔کیونکہ اس وقت تک کالج کا اپنا ہال تعمیر نہیں ہوا تھا۔20ء سے شاہ تک یہ دستور رہا کہ یہ سالانہ مباحتوں کے اختتام سے اگلی صبح تمام شریک مباحثہ طلباء جو کراچی، پشاور اور لاہور وغیرہ مختلف کابیوں سے ربوہ آنے ہوتے تھے، کے ناشتہ کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے در دولت پر ہوتا تھا اور آپ اس میں طلباء کے ساتھ نہایت بے تکلفی اور شفقت کے ساتھ پیش آتے اور ایک ذاتی تعلق ہر شریک مجلس سے پیدا ہو جاتا۔سالہا سال یومین کی خوش قسمتی سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ شریک مباختہ طبیہ کو قصہ خلافت میں ملاقات خاص می موقعہ دیقیہ حاشیہ اگلے صفر پر