تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 90 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 90

4۔مگر میں چیز نے میرے دل پر سب سے زیادہ اثر پیدا کیا وہ کالج کی کلاسوں کی حالت تھی جیسا کہ میں اُوپر بتا چکا ہوں موجودہ عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کی ضروریات کے لئے فارغ کیا جاسکا ہے اس لئے باقی کلاسیس پر آمدوں میں یا کھلے میدان میں درختوں کے نیچے بیٹھتی ہیں لیکن خواہ وہ کمرہ میں بیٹھتی ہیں یا کہ برآمدہ میں اور خواہ کھلے میدان میں، ان سب کا یہ حال ہے کہ چونکہ کوئی ڈیسک اور کوئی میز کرسی نہیں، اس لئے پڑھانے والے اور پڑھنے والے ہر دو چٹائیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں مجھے اس نظارہ کو دیکھ کر وہ زمانہ یاد آیا کہ جب دینی اور دنیوی ہر دو قسم کے علوم کا منبع مسجدیں ہوا کرتی تھیں جہاں اسلام کے علماء اور حکماء فرش پر بیٹھ کر اپنے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے طالب علموں کو درس دیا کرتے تھے۔اور اس قسم کے درسوں کے نتیجہ میں بعض ایسے شاندار عالم پیدا ہوئے کہ صدیاں گذر جانے کے باد بود آج کی دنیا بھی ان کے علوم سے روشنی حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔یکن نے کالج کے بعض بچوں اور پروفیسروں کو بتایا کہ انہوں نے پرانے زمانہ کی یاد کو تازہ کیا ہے اور جس خوشی کے ساتھ انہوں نے حالات کی اس تبدیلی کو قبول کیا ہے وہ ان کے لئے اور ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ موجودہ حالات سے انہیں یہ سبق سیکھنا چاہیے۔کہ تحقیقی علم ظاہری ٹیپ ٹاپ اور ظاہری ساز و سامان سے بے نیاز ہے اور جھونپڑوں کے اندر فرشوں پر بیٹھ کر بھی انسان اسی طرح علوم کے خزانوں کا مالک بن سکتا ہے جس طرح شاندار ساز و سامان استعمال کرنے والے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ یہ صورت دروح کی درستی کے لحاظ سے زیادہ مفید ہے۔اور انسانی قلب کو علم کے مرکزی نقطہ پر زیادہ جنگی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے کیونکہ جب ماحول کی زیب و زینت نہیں ہوگی تو لانا انسان کی آنکھیں اور انسان کے دل و دماغ علم کی طرف زیادہ متوجہ رہیں گے میرا یہ مطلب نہیں کہ ضروری سامان جو موجودہ علم کے حصول کے لئے ضروری ہے اسے حاصل نہ کیا جائے۔جو چیز حقیقتا ضروری ہے وہ علم کا حصہ ہے اور ہم اس کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے اور موجودہ صدیریت میں بھی ہم اس کے لئے کوشاں ہیں۔مگر ظاہری ٹیپ ٹاپ یا زیب و زینت کا سامان یا آرام و آسائش کے اسباب بہر حال زائد چیزیں ہیں جو علم کے رستہ میں محمد ہونے کی بجائے روگ بننے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔ہمارے آقا (فداہ نفسی صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔القمر فری یعنی فقر میرے