تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 86 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 86

AY چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ سیان اصلاح الوجود کا تاریخی فیصلہ میں نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کی کہ پرنسپل اور اس نے قادیان سے ایک مشورہ بھیجا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضور مناسب خیال فرمائیں تو موجود حالات میں کانچ کا بوجھ جماعت پر نہ ڈالا جائے۔اس پر حضور خاموش رہے۔پھر حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی خیال ہے حضور پھر بھی تھا موش رہے۔پھر کسی اور نے مشورہ دیا یعنی کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالے نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی پہچانیان ہے۔اس پہ اللہ تعالیٰ کے اولوالعرم خلیفہ رضی اللہ تعالے نے اتنے جوش اور بلند آواز سے کہ سب کے دل دہل گئے، فرمایا آپ کو پیسوں کی کیوں فکر پڑی ہوئی ہے۔کالج ملے گا اور کبھی بند نہیں ہوگا " اور پھر اس ضاحیہ سے فرمایا کہ آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین میں جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کرو اس فیصلہ کے علاوہ حضور نے ۲۴ اضفاء اکتوبر کو ارشاد فرمایا کہ میاں عطا واله مین صاحب پروفیسر تعلیم الاسلام کا لج کو فوری طور پر قادیان سے یہاں بجوانے کا انتظام کیا جائے نیز انہیں یہ ہدایات بھی بھیجی جائیں گر وہ کالج کے سامان کی مکمل فہرست بھی تیار کر کے اپنے ساتھ لے آئیں۔اس فہرست میں وہ سائنس کے سلمان کو خاص طور پر مد نظر رکھیں بچو ہدری محمد علی صاحب نے حضور کا یہ فوری حکم حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو قادیان بھیجوا دیا اور میاں عطانا الرحمن صاحب بھی لاہور پہنچ گئے۔شار را کتوبر کو مصور نے مزید ہدایت فرمائی کہ صوفی بشارت الرحمن صاحب اور محمد صف یہ صاحب کو لگانے کے لئے قادیان آکھا جائے۔اس حکم کی بھی تعمیل کی گئی۔حضور کا منشار مبارک ہونکہ فی الفور کالج کے قیام و تاسیس کا تھا۔اس لئے لاہور کے علاوہ امین آباد گوجرانوالہ کوٹ شہر میں موزوں جگہ کی تلاش میں دوڑ دھوپ کی گئی : ۲۷ امضاور اکتوری پیش کو ملک فیض الر حمن صاحب فیضی را دپر ہی بھجوائے گئے اور خود چو ہدری محمد علی صاحب لائل پور اور سانگلہ ہل پہنچے۔لائل پور ه تحریری بیان پور هندی فری علی صاحب ایم است اکورن ۷ بار نبوت (نومبر سال پیش بغیر مصبوحه) 44947