تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 85
۸۵ فصل چهارم لاہور میں اس کی زندگی کا ہفت سالہ دور ماه استار اكتوبر الدش ماه نبوت رنو براش حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب پر سیل تعلیم الاسلام کا لج ابھی قادیان میں تھے کہ خدا کے اولوالعزم عالی ہمت اور ذہین و فہیم تعلیقہ موعود نے ہجرت پاکستان کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ تعلیم الاسلام کالج کو جلد سے جلد کھولنے کا انتظام کیا جائے اور چوہدری عبدالاحد صاحب ڈائریکٹر کو ریسرچ اور کالج کے لئے موزون عمارت تلاش کرنے پر مقر فرمایا۔نیز قادیان لکھا کہ پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اسے فی الفور لاہور بھجوا دیئے جائیں مو شود یہاں پہنچے تو انہیں قائمقام پرنسپل تجویز کر دیا گیا۔۲۰ خاور اکتوبر کو آپ نے کالج کے فوری اخراجات کے لئے؟ ڈیڑھ سو روپیہ بطور پیشگی دیئے بجانے کی درخواست کی جو دے دیئے گئے۔۲۳ اتحاور اکتوبر کو چودھری صاحب : ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر حصول عمارت کی بعد و جہد کرنے کا ارشاد ملا چودھری صاحب اور فیضی صاحب نے پہلے دن ہی اپنی سرگرمیاں تیر یہ کر دیں اور لاہور میں خالصہ بورڈنگ ہائوس کی عمارت دیکھنے کے بعد مفصل رپورٹ اگرچہ اگلے روز ۲۴ ماه اختار اکتوبر کو صدر کا لی کمیٹی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو بھیجوا دی مگر ساتھ ہی حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں تحریری طور پر یا رب عرض کیا کہ با حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی رائے یہ ہے کہ سردست کا لج نہ کھولا جائے۔خاکسار کی گزارش یہ ہے کہ لاہور میں کالج کھولنے کی ضرورت نہیں۔فی الحال اگر یہ فیصلہ ہو کہ طلباء صرف ایک کالج میں داخل ہوں تو ایک حد تک ان کی نگرانی ہو سکتی ہے۔ورنہ خواہ اپنا کالج ہی کیوں نہ (جو فسادات کے دوران گجرات میں تھے) ناہوں کی مسموم ہوا میں طلباء کو شکنجے میں رکھنا کسی صورت میں قابل حمل نہیں ہوگا اسے ملے کالج کے باقی اکثر استند ان ایام میں قادیان یا ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھرے ہوئے تھے چنانچہ پر وفیسر عبد الشستان ایک کمیٹی کا اپنی جیب تو حیدر آباد کی میں تھے کہ جنگ سے شروع ہو گئے ایل کا رستہ بہن ہو گیا، امداآپ یہ نبوت اون بر اسایش کو بد بیعہ بھری جہاز بیٹی سے کراچی کیلئے روانہ ہوئے اور کراچی سے لاہور پہنچے۔پروفیسر عباس بن عبد القادر صاحب اپنے وطن بہار میں چھٹیاں گذار رہے تھے اور یصور مشکل پاکستان میں آئے ؟ ے اس خط کیلئے ملاحظہ ہو " فائل بھائی کائی"۔