تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page vii of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page vii

بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَةٌ وَنَصَلَّ عَلَى رَسُولِهِ الكَريم وَعَلى عَبْدِهِ المسيح الموعود۔پیش لفظ یہ محض للہ تعالی کاحسان ہے کہ تاریخ احمدیت کی نویں جلد طبع ہو کیا حباب کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔کئی سالوں سے ہر جلسہ سالانہ کے موقع پر ادارۃ المصنفین تاریخ احمدیت کی ایک ضخیم جلد احباب کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔تقریباً سات صد صفحات پرشتمل کتاب کے مرتب کرنا، اس پر نظر ثانی کرنا ، اس کو لکھوانا اور طبع کرانا بہت ہی محنت شاقہ کو چاہتا ہے اور اس کا اندازہ وہی اصحاب کرسکتے ہیں جو تصنیف وطباعت کا تجربہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالی کی مولوی دوست محمد مصلوب شاہید کو جزائے خیرہ سے اور اپنی برکتوں اور فضلوں سے نوازے کہ وہ نہایت ہی محنت اور جانفشانی سے ہر سال ایک جلد کا مواد اکٹھا کرتے اُسے مرتب کرتے اور لکھتے ہیں۔اور مواد اکٹھا کرنے اور تصاویر حاصل کرنے کے لئے انہیں کئی سفر بھی کرنے پڑتے ہیں ادار تعیین کے عمل کو تاریخ کی طباعت کے سلسلہریں بہت جد و جہد کرنی پڑتی ہے مضمون کو لکھواتا ، پروف پڑھنا اور تصاویر کے بلاک نوا کر چھپوانا کافی تگ و در چاہتا ہے۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہماری محنت ٹھکانے لگ رہی ہے اور ہر سال ہم اپنی منزل مقصود کے قریبہ سینچ رہے ہیں۔تاریخ احمدیت کی ہر جلد ہی اہم واقعات پر مشتمل ہوتی ہے لیکن یہ جلد اس لحاظ سے خصوصیت رکھتی ہے کہ اس میں تین ایسے اہم واقعات کا ذکر آرہا ہے جو رہتی دنیا تک اثر انداز ہوں گے راہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا دعوی مصلح موعود اور اس کے اثرات (۲) تفسیر کبیر جلد سوم کی تصنیف اور اس کی اشاعت (۳) مجلس الہ الاللہ کا قیام۔یہ تینوں اتحات تاریخ سلسلہ میں بہت ہی اہم واقعات ہیں اور بڑے دور رس نتائج کے حامل ہیں۔اس جلد میں نہیں قدرو اقعات کا ذکر ہے ان سب کا خاکسار عینی شاہد ہے جب سیدنا حضرت علی المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے بیگم کے مطابق دھوئی مصلح موعود فرمایا تو وہ دن جماعت کے لئے عید کا دن تھا اور تشخص کا چہرہ خوشی سے پہک رہا تھا اللہ تعالی نے اسلام کی صداقت کا زندہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔وہ پیشگوئی جولی سود میں ہزاروں سال سے موجود تھی اور پھر اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور پھر اولیائے امت نے اُسے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اس زمانہ میں بستید حضرت سیم موجود علا السلام نے اللہ تعالی سے نقل ر کارکردگی کی اطلاعی و پیشگوئی پوری ہورہی تھی دعوی مسلح دور کے بعد ہوشیار پور لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں جلسے ہو