تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 575 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 575

۵۵۴ آپ کو سپرد کر دی گئی ہے اس لئے آپ نے فرمایا کہ جماعت کو اپنے سب جذبات و احساسات بکلی ترک کر کے صرف انہی راہوں پر چھلنا ہو گا جو خدا تعالے کی طرف سے آپ پر کھولی جائیں گی بیچنا نچہ حضور نے اس دور جدید کی پہلی مجلس مشاورت کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- یمیں نے ایک عرصہ تک جماعت کے جذبات اور اس کے احساسات کا خیال رکھنا اور باوجود دوستوں کی ناتجربہ کاری ، ان کی سیاست سے ناواقفیت اور دینی جماعتوں کے اصول سے لاعلم ہونے کے ہمیشہ ان کے مشوروں کو قبول کیا۔اور اگر اپنی کوتاہ نظری سے گرد و پیش کے حالات سے غلط طور پر متاثر ہو کر انہوں نے بعض مشورے دیئے تو میں نے اُن کو بھی رد نہیں کیا۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ میں ایسے مشوروں کو قبول نہ کروں اور دوستوں کے جذبات اور ان کے احساسات کا خیال رکھے بغیر ان کو کھٹے طور پر رد کر دوں۔میں جانتا ہوں کہ در حقیقت بات یہی ہے کہ اب جو کچھ میں کہوں گا اسی پر جماعت کا چلنا مفید اور بابرکت ہوگا نہ اس راہ پر چلنا جس کو وہ خود اپنے لئے تجویز کی ہے۔اگر خدا نے مجھ پر یہ انکشاف کیا ہے کہ میں حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نظیر ہوں تو در حقیقت اس کے یہی معنے ہیں کہ اب تمہاری ذمہ داری بحیثیت ایک شخص کے ہے۔بحیثیت جماعت جو ذمہ داری سمجھی جاتی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔اب میں خدا تعالیٰ کے سامنے اس کے دین کی اشاعت اور اسلام کے اختیار کے لئے ذاتی طور پر وقتہ والہ ہوں اس لئے اب مجھے جماعت کے مشوروں کی زیادہ پہ وا نہیں ہوگی۔اگر کسی معاملہ میں جماعت کی شدید رائے کو بھی تو کرنا پڑا تو میں اُسے کھلے طور پر رو کر دوں گا۔اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کروں گا کہ یہ وہ مشورہ ہے جو جماعت نے متفقہ طور پر دیا ہے۔اب خدا کے سامنے میں صرف اپنے آپ کو ذمہ وار سمجھتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کے الہامات اور اس کی تائید کی روشنی میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا منشار تھا ؟ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے یہ پس آئندہ میں صرف اس آواز کو سنوں گا جو خدا تعالے کی ہوگی۔دوسرا کوئی لفظ میرے کان برداشت نہیں کر سکتے۔میرا فرض ہے کہ اب میں اس کی طرف بڑھتا چلا جاؤں اور خواہ میرے سامنے کوئی بات کیسی ہی خوبصورت شکل میں پیش کی بجائے اس کی پروا نہ کروں جبکہ میراں یہ گواہی دے رہا ہو کہ میں وہی کام کر رہا ہوں جو حضر سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام تھا اور میں رہی کام کر رہا ہوں جو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم منعقده ۷-۸-۹ شهادت / اپریل میش