تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 56
04 محمد صاحب پٹیالوی) کا بیان ہے کہ انہی دنوں خواجہ محمد اسمعیل صاحب نے مجھے بتایا کہ " ہم رات کو اکٹھے ہو کر رات کے ایک بجے تک بعض بعض اوقات ڈھائی بجے تک دعائیں کرتے ہیں۔ہمیں بڑے بڑے نظارے خدا تعالیٰ دکھاتا ہے۔دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اسی طرح ہم صبح کے وقت یا ہر دور ایک دو میل نکل کر فضل ادا کرتے ہیں ، دھا کرتے ہیں۔اس لئے آپ آجایا کریں۔دعاؤں میں شامل ہو جایا کریں۔یہ جو مسجد میں جا کر نماز ادا کی جاتی ہے یہ تو ایک وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔اصل نماز تو وہی ہے جو انسان بالکل الگ پڑھے۔۔۔۔ان الفاظ پر فور میرے دل نے یہی گواہی دی کہ یہ شخص تو اللہ تعالے اور اس کے رسول کے خلاف ایک نئی قسم کا دین بناتا ہے حضرت امیر المومنین کا پہلا انتباہ سیدنا حضرت علیہ ایسی نشانی کی خدمت میں یہ اطاعت پہنچیں تو حضور نے سور نومبر ۹ہ کے خطبہ جمعہ میں انتباہ فرمایا کہ " مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی بخوابوں اور دعاؤں کو آمد کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور وہ آنوں بہانوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالے بندوں سے مانگنے پر مقرر کر دیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے۔ایسے شخص کی خواہیں بھی یقینا ابتلاء سے دیتا کے ماتحت ہو سکتی ہیں۔انعام کے طور پر نہیں۔ہاں یہ جائز ہے کہ دین کے لئے انسان دعا کے پورا ہونے پر خدمت مقرر کرے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔اپنے نفس کے لئے جائز نہیں اور کامل مومن کی فطرت ہی کے یہ امر خلاف ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالے کسی کی دعا مینے اور پھر جس کے حق میں دعا کی گئی ہے۔اس کے دل میں تحریک کرے کہ وہ خود اپنی خوشی سے دعا کرنے والے کی خدمت کرے" له انتباہ کا افسوسناک رو عم اتنی بھی خواہ محمد میاں صاحب اوران کے ساتھی اپنی رویش پر بدستور قائم رہے، اور اس بدعت شفیعہ کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے جب یہ فتنہ پڑھنے لگا تو جماعت احمدیہ کو اس کے اغلاقی، دینی اور مالی نقصانات سے بچانے کے لئے انجمن اتحاد عالمین توڑ دینے کی ہدایت کی گئی۔ان لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔تیس پر ۲ ہجرت مٹی سی امین کو قادیان میں اُن کے مقاطعہ کا اعلان کرنا پڑا۔اعلان کے بعد اس پارٹی نے نظام سلسلہ کے مقلات مد و تعصب وو " ے اہم شہادات " صفحہ ۱۹ : "الفضل" در نومبر ۱۹۳۹ صفحه ۸ کالم ۳