تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 57
بلکہ باقاعدہ مقابلہ کی صورت اختیار کر لی جس پر یہ لوگ جماعت سے نکال دیئے گئے ہے یہ لوگ ابھی پوشیدہ ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا گو پارٹی کی نسبت حضرت ام ہم حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض کو ایک خواب میں اس فتنہ کے آغاز اور اس کی ناکامی کا نظارہ دیکھا دیا۔حضور نے یہ پوری خواب ، ہجرت ۳۱ دیش کے خطبہ جمعہ میں سنائی اور نظام خلافت کی موجودگی میں ایسی تحریکوں کو سراسر باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا :- یہ خواب جب میں نے دیکھا یہ لوگ بھی پوشیدہ تھے اور اندر ہی اندر اتحاد عالمین کے نام سے اپنی گدی بنانے کی سکیمیں بنا رہے تھے۔ان کے اندر خود پسندی اور خود ستائی تھی اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔لوگوں سے کہتے تھے ہم سے دعائیں کر اور حالانکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گرمیوں والی ولایت کے کوئی معنی ہی نہیں۔جیسے گوریلا وار کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں ہوا کرتی۔چھا پہلے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب یا قاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو۔خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوتے۔نہ حضرت ابو بکر یہ کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا نہ حضرت عمرہ یا حضرت عثمان یا حضرت علی رند کے زمانہ میں۔ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالٰی نے ولی کھڑے کئے کہ جو لوگ اُن کے جھنڈے تلے جمع ہو سکیں انہیں جم کر لیں تا قوم بالکل ہی تقریر نہ ہو جائے۔لیکن جب مخلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے جب منظم فوج موجود ہو تو گوریلا جنگ نہیں کی بھاتی۔پس خلافت کی موجودگی میں ولایت کا وسوسہ در اصل کثیر اور بڑائی ہے۔اس خواب میں جو سانپ میں نے دیکھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اُن میں سے ایک سے مراد اندرونی فتنہ ہے اور ایک سے بیرونی اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں قسم کے فتنے اس وقت بل کو حملہ کر رہے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ دونوں کو دور کر دے گا اور فرشتوں کے ذریعہ اُن کے ہاتھ بنا کر دے گا۔انسانی ہمت کڑیاں کوئی چیز نہیں اصل وہی ہیں جو اللہ تعالے کی طرف سے لگائی جائیں حکومتیں کسی کو نظر بند کرتی ہیں تو اس کے ساتھی موجود رہتے ہیں جو اس کی آواز کو پہنچاتے رہتے ہیں۔لیکن خدا تعالے کسی کو ہتھکڑی لگائے طب و"الفضل" ۱۵ هجرت مئی مش لے یہ صاحب خود لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اپنی خصوصیت جتانے کے لئے یہ نرالا ڈھنگ اختیار کیا ہے کہ اپنی بعض دعاؤں کی قبولیت اور کچھ خوابوں کی بناء پر عوام کو راغب کر کے انہیں اپنا غلام بنا لیتے ہیں، شخص مذکور کا رسالہ " تعلق بالله ، صفحه ۴۰۳ :