تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 49
کا دفتر، یہانتک کہ قبرستان ، ان میں سے ہر ایک اپنی باقاعدگی اور خوش سلیقگی کے اعتبار سے کارکنوں کی دلچسپی اور فرض شناسی کا ثبوت دے رہے تھے اور یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں کسی جماعت کے تنظیمی اداروں کو نہیں بلکہ کسی حکومت کے مختلف محکمہ جات کا معائنہ کر رہا ہوں۔خذ ما صفا کے اصول کے ماتحت میری دلی تمنا ہے کہ میں تمام دنیا کے مسلمانو کو اس چھوٹی سی جماعت کی طرح منظم اور ایک مرکز کے تحت جو اصول اسلامی کے مطابق ہے حرکت کرتا ہوا دیکھوں۔اس وجہ سے قادیان کے سفر کو میں اپنی زندگی کے وہ لمحات سمجھتا ہوں جن میں میری نظر ہو شیار نے کچھ دیکھا اور حاصل کیا۔لال گڑھی (جاگیر) ۲۰ شوال المکرم مطابق ۳۱ اکتوبر ۹۴ ایده من خلف الشهر حال صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک اہم تقریب منعقد ہو رہی تھی۔مودهری جس میں تقسیم انعامات کے لئے آنریل چودھری محمد ظفراللہ خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں صاحب کی خدمت میں درخواست کی گئی جسے آپ نے بخوشی قبول فرمایا۔اور آپ ۹ امان/ مارچ میں کو دہلی سے بذریعہ کار کا کلکتہ میل سوا نو بجے وارد علی گڑھ ہوئے۔71900 ریلوے سٹیشن پر معززین نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا جن میں حسب ذیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں :۔۱- آنریل سرشاه محمد سلیمان صاحب وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی رج فیڈرل کورٹ دہلی۔-۲- مسٹرا سے بی۔اے علیم صاحب پرو وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔مسٹرا ہے۔ٹی تقوی آئی سی ایس کلکٹر ضلع علیگڑھ۔م۔ڈاکٹر ہادی حسن صاحب صدر شعبہ فارسی مسلم یونیورسٹی۔کپٹن حیدر خا لصاحب صدر شعبہ کیمیسٹری مسلم یونیورسٹی۔-- ڈاکٹر طاہر رضوی صاحب صدر شعبہ جغرافیہ مسلم یونیورسٹی۔۷ تھال بہادر شیخ محمد عبد اللہ صاحب۔مسٹر عبداللہ بٹ لیکچر مسلم یونیورسٹی۔آرمیبل چودھری صاحب اسٹیشن سے بذریعہ کا مسلم یونیورسٹی کی طرف روانہ ہوئے جہاں وکٹوریہ گیٹ پر یونیورسٹی ه مرکز احمدیت قادیان" صفحه ۴۵۴ تا ۴۵۶ مصنفه شیخ محمود احمد عرفانی ایڈیٹر الحکم " قادیان +