تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 48
کی مجلس وزراء کے اہم ترین رکن تھے اس لئے۔۔۔مارچ ۱۹ ء میں پند گھنٹوں کے لئے قادیان گیا جہاں چوہدری صاحب مقیم تھے جوئیں نے قادیان میں چند گھنٹے بسر کئے لیکن ان چند گھنٹوں کی یاد ابھی تک باقی ہے۔اسٹیشن پر میرے قدیم کہ مفرما مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اور مولوی محمد اعظم صاحب نے استقبال کیا۔مولوی عبد الرحیم صاحب نیر جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے کئی سال تک حیدر آباد میں مقیم رہے ہیں۔اور ان چند اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے مجلس اتحادالمسلمین حیدر آباد کا سنگ بنیاد رکھا۔اور مولوی محمد اعظم صاحب حیدر آباد کی مشہور دوکان محمد اعظم معین الدین کے مالک اور مجلس اتحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے قدیم ترین رکن اور میرے رفیق کار ہیں اور ان چند نوجوانوں میں سے ہیں جن کی رفاقت پر میں فخر کرتا ہوں۔ان دونوں حضرات نے زوال آفتاب تک مجھے قادیان کی ایک ایک گلی میں گھمایا اور جماعت احمدیہ کے ایک ایک ادارہ کی سیر کرائی۔قادیان پنجاب کے ضلع گورداسپور کی ایک چھوٹی سی آبادی ہے لیکن جماعت کا مرکز ہونے کی وجہ سے آج اس کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔ہر سال ماہ دسمبر میں وہاں اس جماعت کے متوصلین کا کثیر اجتماع ہوتا ہے جس کی خصوصیت مرزا غلام احمد صاحب کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا خطبہ ہے۔ان خطبات کو احمدی عقائد سے اپنے کامل اختلاف کے باوجود میں التزاماً پڑھا کرتا ہوں۔تمام ہندوستان کے احمدیوں کی نمائندگی کا دوسرا اجتماع ہر سال ایسٹر کی تعطیلات میں ہوا کرتا ہے جس کو یہ لوگ اپنا بجٹ مشن کہتے ہیں۔اتفاق سے میں اسی زمانہ میں قادیان پہنچا تھا اور ان نمائندوں میں سے بعض سے مجھے ملاقات کا موقعہ ملا۔احمدی جماعت کو اپنی بقا و استحکام کے لئے جن شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس نے قدر تا ان میں ایک مکمل تنظیم پیدا کر دی ہے۔اور چونکہ کوئی تنظیم ایثار کے بغیر نہیں پیدا ہو سکتی۔اس لئے میں قادیان کے تمام اداروں کے تفصیلی معائنہ کے بعد یہ یقین رکھتا ہوں کہ اس جماعت کے پیرو اپنے اندر اطاعت امیر اور ایثار کے حقیقی جذبات رکھتے ہیں۔قادیان کا مدرستہ العلوم ، عربی کی درسگاہ ، دار الاقامته ، دار الاشاعت ، بین الاقوامی تبلیغ کا مرکز نوجوان فدائیان احمدیت کا تنظیمی ادارہ ، مہمان خانہ ، میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امیر جماعت