تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 50 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 50

کے رائٹنگ سکواڈ ) RIDING SOUND (R) نے آپ کو سلامی دی۔پھر آنریل چودھری صاحب نے آنریل سرشاہ محمد سلیمان صاحب کے ہمراہ تمام یونیورسٹی کا چیکو لگایا اور قریباً ہر شعبہ کا معائنہ فرمایا۔ساڑھے چار بجے بعد دو پہر آپ کے اعزاز میں یونیورسٹی کی طرف سے دعوت چائے دی گئی۔اس کے بعد کھیلوں کے بعد تقسیم انعامات میں جناب چودھری صاحب نے انعامات تقسیم فرمائے۔اختتام پر مسٹر اسے بی اے تعلیم صاحب پرو وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی نے آپ کا انگریزی میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔ہم آنریل چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔جو اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنے کام کا حج کر کے یہاں تشریف لائے نیز آپ کی غیر معمولی قابلیت، اعلیٰ پایہ کے مدیر سیاستدان اور پارلیمنٹرین ہونے کا ذکرہ نہایت شاندار الفاظ میں کیا۔اس کے جواب میں چودھری صاحب نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اُردو میں تقریر کی جس میں فرمایا کہ میں آپ لوگوں کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری عزت افزائی کی ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کی تواضع کروں۔آپ حیران ہونگے، کیونکہ آپ کا خیال ہو گا کہ میں انگریزی میں تقریر کروں گا۔لیکن میں آج چونکہ ایسے موضوع پر کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کے لئے اُردو زبان زیادہ موزوں ہے۔اس لئے میں اسی سے کام لوں گا۔آپ نے بارہا سیاست اور دیگر مسائل پر عالمانہ تقریریں سنی ہوں گی۔لیکن آج میں ایسے موضوع پر کچھ کہنا چاہتا ہوں جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے۔آپ نے حدیث انما الاعمال بالنیات کی تشریح و تفسیر نہایت پر اثر اور لطیف پیرایہ میں کی یہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اور دیگر بزرگوں کے حالات بیان کئے۔آپ نے فرمایا، جو کام کیا بجائے اس کے لئے نیت نیک ہونی چاہیئے اور وہ کام خدا ہی کے لئے ہونا چاہیئے تمہارا اُٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے ہونا چاہئیے۔اور ہر کام کرتے وقت تمہاری نیت نیک ہونی چاہیئے۔اگر کھیلوں کے میدان میں کھیلو تو اس میں بھی خدا تعالے کی رضا اور خوشی کو مد نظر رکھ کر کھیلو۔اس موقعہ پر آپ نے حضرت اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ بیان کیا کہ آپ جب دریائے اٹک پر پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں ایک غیر مسلم ہے جو بہت بڑا تیراک ہے اور کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اس پر آپ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہاں سے آگے بڑھیں۔وہیں ڈیرے ڈال دیئے اور تیرنا شروع کر دیا۔آخر اتنی مشق کر لی کہ اس غیر مسلم کو چیلنج دے کو شکست دی۔ہمارے نوجوانوں کو چاہیئے کہ ہر کام میں اسلام کی برتری ، ترقی اور یہودی کی کوشش کریں۔