تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 47 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 47

مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں ۱۳۱۹ پیش ۲۱ ۲۲ ۲۳ رامان / ماری ماں کوں ہور میں مسلم لیگ - ۶۱۹۴۰ کا وہ تاریخی اجلاس منعقد ہوا جس میں قرار داد پاکستان پاس شرکت کے بعد قادیان میں آمد کی گئی۔اس اجلاس میں شرکت کے لئے نواب بہادر یار جنگ *190 در امان مارچ کو حیدرآباد سے عازم لاہور ہوئے۔آپ کے ساتھ مسٹر سید احمد محی الدین ایڈیٹر رہبر کن ، مسٹر ابوالحسن سید علی (مجلس استحاد السلمین) ، مولانا سید بادشاہ حسین صاحب (سکوٹری مجلس علمائے دکن) بھی تھے سیلہ مسلم لیگ کے اجلاس میں سرگرم حصہ لینے اور دوسری متعدد مجالس سے پر اثر خطاب کرنے کے بعد حیدر آباد واپس جاتے ہوئے آپ قادیان بھی تشریف لے گئے جہاں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کو بھٹی میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی سے مفصل طاقات ہوئی جس میں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے علاوہ سیٹھ محمد اعظم صاحب بھی موجود تھے۔اس اہم ملاقات کے علاوہ آپ نے مرکز احمدیت کے اداروں اور تنظیم کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔اور اپنے تاثرات اپنے قلم سے لکھ کر شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مدیر الحکم کو ارسال فرمائے جو اُن کی کتاب " مرکز احمدیت قادیان" کے آخری صفحات میں طبع شدہ ہیں۔نواب بہادر یار جنگ صاحب نے اپنے تاثرات میں نوار سلاد کے تاثرات قادیان کے متعلق نوری بی لکھا کہ مارچ کر کے اواخر میں لاہور مسلمانان ہند کا مرکز بنا ہوا تھا۔ایک تو اس وجہ سے کہ وہاں آل انڈیا مسلم لیگ کا وہ اہم اجلاس منعقد ہو رہا تھا میں نے ہندوستان کی سیاسیات میں ایک نئے باب کو کھولا۔دوسرے اس لئے کہ مخاکساروں کی جماعت پر حکومت پنجاب کی بے دردانہ آتشیاری نے سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو آتش زیر پا کر دیا تھا۔اجلاس مسلم لیگ کے اختتام پر میری تمام تر توجہ مخاکساروں کے مسئلہ پر مرکوز تھی۔اسی سلسلہ میں ضرورت پیش آئی کہ میں اپنے کرم فرما ہچو ہدری سر ظفر اللہ خان صاحب سے طاقات کروں جو اس زمانہ میں وائسر سے نے روزنامہ انقلاب" لاہور ۲۰ مارچ ۱۹۸ + ملاحظہ ہو کتاب " انجمن " (مؤلفه فقیر سید وحید الدین مرحوم) ناشر رائن آرٹ پریس (کراچی) لمیٹڈ فرئیر روڈ کراچی طبع اول اپریل له :