تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 46 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 46

Py یہاں جہادیوں کی اچھی خاصی جماعت ہے جس میں نواب بہادر یار جنگ بھی شامل ہیں۔یہ جماعت حضرت سید محمد جونپوری کو مہدی مانتی ہے اور اگرچہ شاید صریحاً ان کو نبی نہیں کہتی تاہم عقیدہ اُن کو رسول الله کے ہم پلہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کو مانتی ہے اور اپنے طرز پر تاویلات کرتی ہے۔قادیانیوں سے ملتے جلتے عقائد ہیں۔البتہ عقائد کی عام اشاعت نہیں کی جاتی بلکہ ایک حد تک عقائد مخفی رکھے جاتے ہیں۔۔۔۔۔چونکہ نواب بہادر یار جنگ مسلمانوں کی سیاسیات میں شامل ہو گئے ہیں اور نمایاں حصہ لے رہے ہیں مسلمانوں نے بھی تفریق کو نظر انداز کر دیا اور اُن کو اپنا سر گروہ بنالیا۔مولوی ایوا حسین سید علی صاحب کا بھی یہی معاملہ ہے۔مسلمانوں میں لیڈر مانے بجاتے ہیں اور ہر دلعزیز ہیں۔نب سے قادیانیوں کا بھانڈا پھوٹا، وہ دینیات ، اسلامیات اور سیاسیات میں بہت نامور ہو گئے۔لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کے علی الرغم نواب بہادر یار جنگ قادیانیوں سے میل جولی بڑھا رہے ہیں بلکہ واقفت لوگ ساز باز کا شبہ کرتے ہیں۔اس سے مسلمانوں میں بد ولی پیدا ہو رہی ہے توجہ بھی دلائی گئی مگر کچھ اثر نہ ہوا۔خدا کہ ہے آئندہ سمجھ آئے۔میں تو سیاسیات سے الگ تھلگ رہتا ہوں۔تاہم میرا جو علم تھا آپ کو لکھ دیا لیکن یہ بات آپ ہی تک رہے باہر نہ جائے۔۔۔۔اپنے اثرات اور مسلمانوں کی عدم توجہی سے فائدہ اُٹھا کر اسی جماعت نے سرکاری جنتری میں حضرت سید محمد جونپوری کی تعطیل میں لفظ میلاد شریف" درج کرا لیا۔علی ہذا جو نظم رسول اللہ کی توصیف میں لکھی جاتی ہے وہ نعت کہلاتی ہے لیکن جہد وہی لوگ سید محمد جونپوری کی منظوم توصیف کو بھی نعت کہتے ہیں۔حالانکہ مسلمانوں کی اصطلاح میں ایسی نظمیں منقبت کہلاتی ہیں۔ا فرقہ مہدویہ کے تفصیلی حالات و عقائد کے لئے ملاحظہ ہو " رود کوثر" صفحہ ۱۹ تا ۲۹ مرتبہ جناب شیخ محمد اکرام صاحب ایم۔اے شائع کردہ فیروز سنترال ہور * لے اس مراسلہ سے یہ بات بھی پوری طرح واضح ہے کہ تحریک پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس میں مضمر تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زیر دست ذہانت اور فراست سے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر ہر قسم کے نقطۂ خیال رکھنے والے مسلمانوں کو جمع کر دیا تھا اور آپ سیاسیات کے میدان میں اختلاف عقائد کا لحاظ نہیں کرتے تھے اور ہر مسلمان کہلانے والے کو مسلم لیگ کے سٹیج پر آکر کام کرنے کا موقعہ دیتے تھے۔۳ رسالہ "نقوش" لاہور خطوط تمبرا صفحہ ۰۴۸۰