تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 645 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 645

416 اور اس ذریعہ سے اللہ تعالی نے اس بڑے خطرہ سے ہمیں بچا لیا۔ورنہ اگر عورتوں کی بھیر مستی تک نوبت پہنچتی تو پھر کوئی شریف آدمی صبر سے کام نہ لے سکتا تھا۔اگر خدانخواستہ ایک ہو جاتا تو دہلی وہ نظارہ دیکھتی جو اس نے گذشتہ اسی سال میں نہیں دیکھا، جب انہوں نے عورتوں پر حملہ کا ارادہ کیا تومیں نے حکم دیا کہ ایک سو مضبوط نوجوان بھا کر عورتوں کی مجلس گاہ کے باہر کھڑے ہو کر پہرہ دیں عورتوں کا احترام نہایت ضروری اور لابدی ہے۔اس لئے وہی کھڑا ہو جو کرنا جانتا ہے۔بلکہ میں نے یہانتک کہا کہ اگر تم میں سے کوئی مرتا نہیں جانتا تو وہ ہر گز نہ جائے۔وہ واپس آ جائے اس کی جگہ میں خود بجانے کو تیار ہوں کیونکہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کرنا جانتا ہوں۔اس وقت ہو غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین رہاں تھیں اُن کے رشتہ داروں نے کہلا بھیجا کہ ہمیں اپنی مستورات کی نسبت بہت گھبراہٹ ہے۔خطرہ بہت ہے کوئی انتظام کیا جائے۔اس پر میں نے ان کی تسلی کے لئے اعلان کیا کہ آپ فکر نہ کریں۔اپنی عورتوں سے پہلے ہم آپ کی عورتوں کی حفاظت کریں گے بچنا نچہ وہ اس امر کے شاہد ہیں کہ ہم نے وہ وعدہ پورا کر دیا۔بعض غیر احمدی مستورات کے ساتھ میری بیٹیاں گئیں اور اُن کو گھر پہنچا کر پھر اپنے گھر آئیں۔جب وہ ہجوم وہاں سے ہٹا تو پھر مختلف جہات سے سنگیاری شروع ہو گئی اور وہ لوگ آگے بڑھنے لگے معنی کہ ایک دفعہ اتنے قریب آگئے کہ سٹیج کے پاس پتھر پڑنے لگے۔یہ وہی موقع تھا جب میرے داماد میاں عبد الرحیم احمد صاحب کے سر پر چوٹ آئی۔بعد میں ایک سر سے معلوم ہوا ہے کہ اُن کے سر کی ہڈیاں تین جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں اور حالت خطرناک ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سے احمدی زخمی ہوئے۔پہلے تو خیال تھا کہ زخمیوں کی تعداد ۲۴ - ۲۵ ہے۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چالیس کے قریب ہے۔ان میں سے بعض کی ضربات شدید ہیں جیسے میاں عبد الرحیم احمد صاحب کی۔اور میاں فضل کریم صاحب پراچہ کی۔اُن کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے ایل ایل بی واقف تحریک کنید کے بھی سخت چوٹ آئی ہے۔اور شبہ ہے کہ اُن کی آنکھ کے پاس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔اب تک وہ سر نہیں اٹھا سکتے۔مگر ہیں اس تمام عرصہ میں متواتر اپنے تمام آدمیوں کو یہ نصیحت کہ رہا تھا کہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں۔ماریں کھائیں مگر جواب نہ دیں۔اور اللہ تعالے کا شکر ہے کہ دشمن کی جو غرض بھی کہ جلسہ نہ ہو اور میں تقریر نہ کر سکوں ، وہ پوری نہ ہوسکی۔اور ہم نے دکھا اور تقریر کے بعد جلسہ ختم کیا۔جب خطرہ بڑھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عورتوں کو وہاں سے پہرہ کے اندر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جائے پہلے