تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 644
میں نے آدمی مقدر کئے کہ میری آواز کو دہراتے جائیں۔پھر کہیں بجا کہ دوستوں کو میری ہدایات کا علم ہوا۔اور رہ واپس آئے۔تو یہ دوسرا ذریعہ ہو گیا اس فتنہ کو بڑھانے کا۔اس کے بعد ان لوگوں نے نہایت ہی ناروا اور نا و اسب طریق اختیار کیا اور ایسی گندی گالیاں دیں کہ جنہیں انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور یہ محض اللہ تعالی کا فضل اور احسان تھا کہ اس نے احمدیوں کو اُن کے برداشت کرنے کی توفیق دی، میں جب جلسگاہ میں داخل ہوا تو ایک آدمی سٹیج کے پاس ہی کھڑا تھا۔میں جب اس کے پاس سے گزرا تو اس نے زور سے کہا۔لَعْنَتُ اللهِ عَلَ الكَاذِبِینَ۔اس کا مطلب یہ تھا کہ تم کا ذب ہو اور تم پر اللہ تعالے کی لعنت ہو۔مگر ایک احمدی نے زور سے کہا۔آمین۔پس ان لوگوں کا شروع سے ہی طرق اشتعال انگیز تھا۔ہم نے پہلے جلسہ گاہ میں نماز پڑھی۔پھر قرآن کریم کی تلاوت شروع ہوئی۔مگر ان سب باتوں سے بھی پہلے سے یہ لوگ آوازے کس رہے تھے۔اس جھگڑے کے بعد ان لوگوں نے سارے شہر میں یہ اعلان کیا کہ احمدیوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے اور لوگوں کو وہاں چلنا چاہئیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں طرف سے لوگ اکٹھے ہو گئے اور سات آٹھ ہزار کی تعداد میں بارگاہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔لاوڈ سپیکر تو خراب ہی تھا۔اس لئے ان لوگوں کا شور و شہر جلسہ کی کاروائی کو خراب کر رہا تھا۔پھر بھی اللہ تعالے کا ایک فضل ہوا کہ میری تقریرہ کے دوران میں وہ کوئی ایسی بات نہ کر سکے کہ تقریر ترک جائے لیکن جب مبلغین نے تقریر یں شروع کیں اور انہوں نے سمجھا کہ شاید اب ہماری تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ہم حملہ کر سکتے ہیں تو انہوں نے اور بھی زور سے نعرے لگانا اور آگے بڑھنا شروع کیا۔پولیس نے ان کو روکا مگر وہ رکے نہیں۔اتنے میں مجھے پاؤں کی آوازیں زور سے آنی شروع ہوئیں اور میں نے کھڑے ہو کہ دیکھا تو سینکڑوں لوگوں کا ایک گردہ عورتوں کی جلسہ گاہ کی طرف حملہ کرنے کے لئے بھاگا جا رہا تھا۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی شریف قوم برداشت نہیں کر سکتی۔پولیس بھی اُن کو روکنے کے لئے دوڑی وہ لوگ پولیس کے پہلو بہ پہلو دوڑ رہے تھے مگر پہلے وہاں پہنچ گئے۔زمانہ جلسہ گاہ کے ارد گرد دو تناتیں تھیں ایک قنات کے اندر صحن تھا اور پھر آگے جا کر دوسری تنات تھی اور اس کے اندر عورتیں بیٹھی تھیں۔اگر ایسانہ ہوتا تو جس گاہ کا ایسا خطرناک انجام ہوا کہ ممکن ہے بہت زیادہ خون خرابہ ہو جاتا۔ان لوگوں نے پہلی قاتوں کو پھاڑ دیا اور گرا دیا۔اتنے میں پولیس بھی پہنچ گئی مگرمعلوم ہوتا ہے کہ باہر کے پردہ کے اندر جب انہوں نے دیکھا کہ عورتیں نہیں ہیں تو غالباً یہ سمجھا کہ یہاں سے چلی گئی ہیں اور اگلی قناتوں تک وہ نہ گئے۔