تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 646 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 646

۶۱۸ غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو پہنچائیں اور پھر احمدی خواتین کو۔اس کے لئے لاریاں منگوائی گئیں اور جس جس جگہ کو عوتوں نے اپنے لئے محفوظ سمجھا وہاں اُن کو پہنچا دیا گیا۔مثلاً سکھ عورتوں نے کہا نہیں گوردوار میں پہنچا دیا جائے۔چنانچہ اُن کو گوردوارہ میں پہنچا دیا گیا۔اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ہمیں جل گالہ میں انتظار کر نا پڑا مگر ان لوگوں کی شرافت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اُن لاریوں پر بھی حملہ کیا جو عورتوں کو لے بھا رہی تھیں۔بیچنا نچہ ایک لارمی جس میں عورتیں تھیں انہوں نے اس کے آگے لاٹھیاں وغیرہ رکھ کر روک لی مگر میں چونکہ جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسے اخلاق کے مالک ہیں۔اس لئے میں نے ہر داری کے ساتھ محافظ بھیجوانے کا حکم دیا تھا۔جب لاری رک گئی تو انہوں نے بے تحاشا پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ان حملوں میں بھی ہمارے بعض نوجوان زخمی ہوئے۔اور بعض تو جب واپس آئے تو سر سے پاؤں تک خون میں نہائے ہوئے تھے۔مگر اس موقعہ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے دشمن کو یہ بتا دیا کہ گو احمدی صبر کرتے ہیں مگر جب اُن پر خواہ مخواہ حملہ کیا جائے خصوصاً جب عورتوں کی حفاظت کا سوال ہو تو وہ ڈرتے نہیں۔اسی سلسلہ میں ایک ہندور نئیں نے ڈاکٹر لطیف صاحب کو سنایا کہ میں سڑک پر جا رہا تھا کہ سامنے سے ایک لاری آتی دیکھی جس میں عورتیں تھیں۔کئی سو آدمیوں کا ایک ہجوم آگے بڑھا اور لاری کو روک لیا۔لاری کے ساتھ چند ایک نو جوان تھے جب ہجوم نے لاری کو روکا تو میں نے خیال کیا کہ اب ان عورتوں کی خیر نہیں ہجوم نے پتھر برسانے شروع کئے۔مگر میرے دیکھتے دیکھتے پانچ سات نوجوان آگے آئے اور انہوں نے سینکڑوں لوگوں کا مقابلہ کیا۔میں یہ دیکھ کر حیران تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان مارے جائیں گے۔مگر ابھی دو تین منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ میں نے دیکھا وہ ہجوم بھیڑوں بکریوں کی طرح بے تحاشا بھاگا جا رہا تھا اور لاری اور اُس کے محافظ سائیکلسٹ آرام سے اپنی منزل مقصود کی طرف جا رہے تھے۔بات یہ ہے کہ ہم امن کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور گورنمنٹ کا کام اپنے ہاتھ میں لیتا نہیں چاہتے ور نہ سچی بات تو یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتیں جہاں صبر کرنا جانتی ہیں وہاں کرنا بھی جانتی ہیں۔اور جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو اُسے کوئی نہیں مار سکتا۔میں خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہ سکتا ہوں کہ یہ سات آٹھ ہزار آدمی نہیں اگر جھلی کے تمام لوگ بھی ہم پر حملہ کرتے تو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم اُن کو بھگا دیتے۔مگر ہم نے پولیس کے کام میں دخل دینا پسند نہ کیا جب عورتوں کی لاریوں پر انہوں نے