تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 636
۶۰۸ سکتے جب تک ہماری بھان میں جان ہے ہم یہ آواز بلند کرتے چلے جائینگے اور ہمارا ایمان ہے کہ تعلیم ضرور کھیل کر رہے گی اور زیر دست سے زبر دست تو میں بھی ہمارے رستہ میں اگر کھڑی ہوں گی تو وہ نا کام ہوں گی۔بیشک ہمارے جسموں کو وہ مٹاسکتی ہیں مگر بہاری رو میں بلند ہوں گی اور یہ پیغام بند نہ ہوگا پس بہتری اسی میں ہے کہ ہماری آواز کو سنو۔اپنی عاقبت کی بہتری کے لئے سنو ! اور اس آواز کو جو اللہ تعالے کی طرف سے بلند ہو رہی ہے بغیر سے مشورہ ر کھنے کی کوشش کرو۔اے خدا ! میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے دلوں کو کھول دے اور ساری دنیا کے کانوں تک اس آواز کے پہنچنے کے سامان پیدا کر دے جس طرح ہم تیرے بندے ہیں۔اسی طرح وہ بھی ہیں جنہوں نے ابھی تیرے پیارے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں پہچانا تو ان کو ہدایت دے اور سب کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کر دے۔دنیا سے فساد ، بدامنی، بیدینی ظلم، فسق و فجور، ایک دوسرے کے مال کو کھانے اور آپس میں لڑنے کی رُوح کو دنیا سے مٹا دے اور امن و آشتی کی روح پیدا کر دے۔اب میں دعا کرتا ہوں ایہو دوست بھی دعا کریں تا اللہ تعالٰی دلوں کو کھول دے اور دنیا کی بڑھالی کو خوشحالی میں تبدیل کر دے " سے تقریر کے خاتمہ پر حضرت المصلح الموعود نے دعا کرائی اور سات بجے شام کے قریب یہ مبارک جلسہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔اور حضور معہ چند اصحاب کے اسی وقت بذریعہ کار قادیان کے لئے روانہ ہو گئے بیہ دیگر کوائف اس بیلہ میں قادیان سے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چھوٹے بڑے قریبا تمام افراد نے شرکت فرمائی نیز حضرت مولوی شیر علی صاحب بین حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور بہت سے دوسرے عمر رسیدہ اور قدیم صحابی بھی شامل ہوئے۔قادیان سے بجانے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہوگی۔پہلا قافلہ دور بہزرو بوگیوں اور عام گاڑی میں ۲۲ امانی " الفضل " ۸ در تبلیغ / فروری س ش ص ۱۳۰ کالم ۲-۳-۴۲ اور اتا ہم و ناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے مصلے پڑنے کے اعلان کے وقت پہلے قادیان میں اور بعد میں لدھیانہ اور لاہور میں جو گرم کوٹ زیب تن فرمایا تھا وہ حضور نے خاکسار کی درخواست په از راه دره نوازی نها کسار کو مرحمت فرما دیا تھا۔یہ کوٹ اب میں نے اپنے لڑ کے محمد اکرم (ڈپٹی چیف انجنیر داؤد خیل کو اس کے اصرار پر دے دیا ہے جو اس کے ہاں محفوظ ہے۔