تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 637
۶۰۹ کی شام کو اور دوسرا قافلہ ۳ برامان / مارچ کی صبح کو قادیان سے روانہ ہوا پہلے قافلہ کے امیر سفر حضرت مولوی شیر علی صاحب اور دوسرے قافلہ کے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب تھے۔قافلہ میں شریک احباب آتے جاتے پورے التزام سے خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے اور دعائیں مانگنے میں مصروف رہتے۔مصلح موعود کے زندہ نشان کے اعلان اور اہل ہند پر اتمام حجت کے لئے پو تھا اور آخری جلسہ عام جلسہ علی ہندوستان کے دارالسلطنت وصلی میں ۱۲ ماہ شہادت اپریل یہ پیش کو منعقد کیا گیا بعید گاہ ہارڈنگ لائیبریری کے متصل ملکہ کے باغ میں تھی۔پنجاب، یو پی ، نواح دہلی اور حیدر آباد دکن تک سے یا چار پانچ ہزار احمدی اس مقدس اجتماع میں شامل ہوئے بہکے جماعت احمدیہ دہلی نے بیرونی مہمانوں کے طعام وقیام کا انتظام احمدیہ فرنیچر ا اس کشمیری گیٹ کے وسیع احاطہ میں کر رکھا ہے بعض دوسرے احباب کے ہاں بھی بہانوں کے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔مہمانوں کے استقبال کی ذمہ داری جناب سیال غلام محمد صاحب اختر کے سپرد تھی بہن کے ساتھ تین نائب اور بیلیس معادن سرگرم عمل رہے جو بہت دہلی۔نے مستعدات کو قیام گاہ تک پہنچانے کے لئے تانگوں کا انتظام کر رکھا تھا۔جلسہ کا اسطلان مختلف طریقوں سے کیا گیا۔پچاس ہزار پوسٹر اور اشتہارات اردو، انگریزی اور ہندی میں شائع کئے گئے ہو تقسیم کرنے کے علاوہ ٹریم گاڑیوں پر بھی چسپاں کر دیئے گئے۔نیز وہلی کے قریباً تمام اخبارات میں بھی اعلان چھپے۔اسی طرح بلجنہ اماءاللہ نے بذریہ اشتہار خواتین سے جلسہ میں شمولیت کی درخواست کی۔جات مصلح موعود کی خبر ملتے ہی دہلی میں اشتعال انگیز تقاریر اور اشتہارات کا ایک باقاعدہ سلسلہ جاری کر دیا گیا اور عوام کو ہر طرح سے مشتعل کر کے ہر صورت جلسہ درہم برہم کرنے کی تلقین کی گئی اور جگہ جگہ کھلے لفظوں میں اعلان کیا گیا کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے مگر قادیانیوں کا جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔ان حالات کے باوجود جماعت احمدیہ دہلی نے پوری دھمھی اور استقلال سے جلسہ کی تیاریاں نہایت تیزی سے مکمل کرلیں میلہ گاہ نہایت سلیقہ سے آراستہ کی گئی۔داخلہ کے لئے بہت خوبصورت اور بڑا گینٹ نصب کیا جس کے دونوں طرف اسلامی نشان چاند اور ستارہ کے نیچے کھا گیا کہ خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان کے اعلان کیلئے جماعت احمدید روسلی کا جلسه لا اله الا الله محمد رسول الله " زمانہ جلسہ گاہ علیحدہ بنائی گئی معنی مردانہ جلسہ گاہ میں " ۲-۹۳ لله الفضل در امان زمان سایش صفحه ۲-۳ " الفضل"۔ارتش صفحه ۹۶ کہ یہ جگہ ریلوے اسٹیشن دہلی کے دوسری طرف بالکل قریب ہی واقع تھی اور پیدل چلنے و لے ریلوے کا پیل (جو کاٹھ کا میل کہلاتا ہے) جبور کرنے کے بعد بآسانی دس منٹ میں پہنچ سکتے تھے ؟