تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 635
ظلمتُ وَرَعْدٌ وَبَزی یعنی اس کی مثال اس بارش کی سی ہوگئی جس میں ظلمت اور گرج اور چمک ہو۔یہ الہام ظاہری رنگ میں آج پورا ہو گیا۔آج بارش میں ہی ہم نے نماز پڑھی اور بارش ہی میں (میں) نے تقریر کی۔ہمارے مخالف خوش ہوتے ہوں گئے کہ بارش شروع ہو گئی ہے اور یہ اُن کے جلسہ کو روک دے گی لیکن میرا دل اس بارش کو دیکھ کر خوشی سے لبریز ہورہا تھا کہ اللہ تعالے کا ایک اور نشان پورا ہو رہا ہے اور لدھیانہ کے لوگ اس نشان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کا اعلان یکم دسمبر رملہ کے اشتہار میں کیا گیا تھا۔اب میں لدھیانہ کے لوگوں کو اور ان لوگوں کو بھی ہو باہر سے آئے ہوئے ہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آسمان کی آواز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بلند کی ہے۔اسے بند کرنا آسان نہیں۔یہ جماعت شروع میں صرف پالیس افراد پرمشتمل تھی مگر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔اس سلسلہ کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اُتریں گے اور روز بروزید سلسلہ پھیلتا چلا جائے گا اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ پیغام اُن ممالک تک جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے ضرور پہنچے گا۔اور جس طرح پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں اور پھر اُن سے نہریں نکلتی ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی نہریں میرے ذریعہ ساری دنیا میں جاری ہوں گی۔اسلام دنیا میں بھینسے گا اور ضرور جیت کر رہے گا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ان لوگوں کے دشمن ہیں جو ابھی تک ایمان نہیں لائے ہم ان کے حقیقی خیر خواہ ہیں اور ان کی خیر خواہی سے مجبور ہوکہ ہی اُن کو سمجھاتے ہیں جس طرح ایک ماں جب دیکھتی ہے کہ اس کا بچپر کنوئیں میں گرنے لگا ہے تو وہ پوری کوشش کر کے اُس کو بچاتی ہے۔اسی طرح ہم ان لوگوں کو ہلاکت سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب ہم اسلام کو سچا سمجھتے ہیںتو پھر ہم یہ بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ سچائی کو دنیا میں پھیلائی ہمارے مخالفت اگر ایمان نہ بھی لائیں تو بھی اُن کو چاہیے کہ ہماری خیر خواہی کے قائل ہوں اور اس بات کو انیں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں ان کی ہمدردی کے لئے کہتے ہیں اور کہتے چلے جائیں گے بچاہے وہ ہم کو کتنے دُکھ کیوں نہ دیں، کتنی تکالیف کیوں نہ پہنچائیں، خواہ وہ ہمیں آروں سے چیر دیں، خواہ شیروں کے آگے ڈالیں، پتھروں سے سنگسار کریں، پہاڑوں سے گرا کر ہلاک کریں، سمندر میں پھینک دیں۔ہم خدا کا نام لے کرکھڑے ہوئے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے رہ نہیں