تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 592 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 592

جماعت نے یہ اطلاع دی ہے کہ ایک زبان کے ترجمہ کی اشاعت کے اخراجات وہ دے گی۔ایک تار قصور سے ملک عبد الرحمن صاحب کا آیا۔تو و تراجم کے اخراجات کے وعدے آچکے ہیں۔گویا جتنی زبانوں میں شائع کرنے کا ارادہ ہے اُن سے دو کے زائد زائد کے لئے چندہ تو نہیں لیا جائیگا گر یہ خدا کا کتنا بڑا فضل اور انعام ہے کہ جماعت کے ایک تھوڑے سے حصہ نے نہایت قلیل عرصہ میں مطالبہ سے بھی بڑھ کر وعدے پیش کر دیئے۔خاص کر قادیان کی غریب جماعت نے اس تحریک میں بہت بڑا حصہ لیا ہے خدا تعالیٰ نے سیدنا المصلح الموعود کو فدائیوں، شیدائیوں اور سر فروشوں کی بے مثال جماعت بخشی تھی۔جس نے اس موقعہ پر روج مسابقت اور جذیر اخلاص کے اس نمونہ پر قانع و مطمئن ہونا گوارا نہیں کیا بلکہ نو تراجم کے وعدوں کے بعد مزید درخواستوں کا تانتا بندھ گیا اور یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اب تراجم کی تقسیم کی صورت کیا ہو؟ چنانچہ سیدنا المصلح الموعود نے ۳ نبوت / نومبر میش کے خطبہ جمعتہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- یں نے پچھلے خطبہ سے پہلے خطبہ میں (۱۲۰ اکتوبر کو قرآن مجید کے سات تراجم کے متعلق تحریک کی تھی یہانتک اس کی کامیابی کا سوال تھا مجھے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت تک خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ ہمیشہ یہ معاملہ رہا ہے کہ وہ جب کبھی میرے منہ سے کوئی بات نکلواتا ہے تو اس کی کامیابی کے سامان بھی کر دیتا ہے۔لیکن اس میں ایک نئی بات پیدا ہو گئی ہے کہ اس تحریک کے بعد جو درخواستیں آئی ہیں وہ ہمارے مطالبہ سے بہت زیادہ ہیں۔ہمارا مطالبہ تھا سات تراجم کے اخراجات کا اور درخواستیں آئی ہیں بارہ تراجم کے اخراجات کے لئے۔اور اکٹھی بیرو نجات سے پیٹھیاں آرہی ہیں کہ وہ اس چندہ میں حصہ لینا چاہتے ہیں جہانتک وسیع علاقوں کا تعلق ہے اور جہاں جماعتیں پھیلی ہوئی ہیں وہ علاقے چونکہ سب کے مشورہ کے بغیر کوئی ذمہ واری نہیں اُٹھا سکتے اس لئے ان درخواستوں میں وہ شامل نہیں کیونکہ وہ بلدی مشورہ کر کے اتنے وقت کے اندر اطلاع نہیں دے سکتی تھیں۔یہ درخواستیں صرف ان جماعتوں کی طرف سے ہیں جو اپنی ذمہ داری پر اس بوجھ کو اُٹھا سکتی تھیں یا افراد کی طرف سے ہیں۔مثلاً چوہدری ظفراللہ خالی ہے اور اُن کے بعض دوستوں کی طرف یا اسلام محمد اختر اور ان کے دوستوں کی طرف سے لاہور کی جماعت کی طرف سے، کلکتہ کی و الفضل ۲ نبوت تو بر سرمایش صفحه ۲ کالم ۳ :