تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 591 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 591

۵۷۰ کی رقم جماعت احمدیہ قادیان کے ذمہ ڈالی اور باقی چار تراجم قرآن کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ ان کے اخراجات چار شہروں کی جماعتیں یا افراد پیش کریں۔له تراجم قرآن مجید کے علاوہ غیرملکی آئنہ زبانوں میں حضور نے لینی ٹیم کی اشاعت کا پروگرام بھی رکھا اوروہ یہ کہ اسلامی اصول کی فلاسفی ، مسیح ہندوستان میں ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام ، رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح عمری، رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئیاں ، ترجمہ احادیث ، پرانے اور نئے عہد نامہ کی روشنی میں توحید، نظام تو اور تین اور اہم مضامین پشتمل بارہ کتب کا سیٹ شائع کیا جائے۔عربی ممالک کے لئے کتابوں کا الگ سیٹ تجویز ہونا چاہیئے۔عربی سمیت دنیا کی مشہور تو زبانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ اور اشتہار چھپوائے جائیں جو چار چار صفحے سے لیکر سولہ سولہ صفحے تک کے ہوں تاکہ کثرت کے ساتھ ان کی اشاعت ہو سکے اور ہر آدمی کے ہاتھ میں پہنچائے جا سکیں ہے خطبہ کے بعد چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور آپ کے چند اور رفتار نے ایک ترجمہ کا خرچ اپنے ذمہ لیا اب باقی صرف تین تراجم رہ گئے ہو حضور نے پوری جماعت پر چھوڑ دیئے اور فرمایا :- جو فرد اکیلا ایک ترجمہ کی رقم اُٹھانا چاہیے وہ اکیلا اٹھا لے۔جو چند دوستوں کے ساتھ مل کر یہ بوجھ اٹھانا چاہتا ہو وہ ایسا کرلے۔جو جماعت مل کر ایک ترجمہ کی رقم دینا چاہے وہ حیات اس کا وعدہ کر لے۔جو صوبہ ایک ترجمہ کی رقم دینا چاہے وہ صوبہ اس کا وعدہ کرلے“ سے اس تحریک کو اللہ تعالٰی نے حیرت انگیز اور بخارق لاو و رنگ میں قبولیت بخشی اور تحریک کی اشاعت کے چھ دن کے اندر اندر تین کی بجائے پانچ تراجم کے وعدہ حجات حضرت اقدس کے حضور پہنچ گئے بچنا نچہ حضور نے فرمایا :- یہ خدا تعالے کا کتنا بڑا فضل ہے کہ ادھر بات منہ سے نکلتی ہے اور ادھر پوری ہو جاتی ہے۔باوجود خطبہ کے دیر سے شائع ہونے کے 4 دن کے اندر سات زبانوں کے تراجم کے اخراجات کے وعدے آگئے خطبہ کے باہر پہنچنے کے چند گھنٹے کے اندر اندر اختر صاحب نے دہلی سے بذریعہ تار اطلاع دی کہ ایک ترجمہ کے اخراجات وہ مع اپنے دوستوں کے دیں گے۔ایک تار لاہور سے آیا کلکتہ کی سے بشمول انگریزی زبان سے" الفضل " ۲۷ اختار / اکتوبر میش سفر ۴- سے " الفضل" بر اختار اکتوبر م متحدہ کالم ۰۲ سکه میان غلام محمد صاحب اختر مراد ہیں۔ہیو ان دنوں را ننگ آفیسر تھے۔