تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 593
۵۷۲ جماعت کی طرف سے اور میاں محمد صدیق اور محمد یوسف صاحبان تاجران کلکتہ کی طرف سے، ملک عبد الرحمن صاحب مل اونر قصور کی طرف سے اور سیٹھ عبداللہ بھائی سکندرآباد کی طرف سے۔یہ سب در خواستین ان جماعتوں کی ہیں جہاں یا افراد زیادہ ہیں اور وہ اس ذمہ داری کا بوجھ بغیر دوسری جماعتوں سے مشورہ کرنے کے خود اُٹھا سکتی ہیں۔یا اُن افراد کی طرف سے ہیں جو صاحب توفیق ہیں اور یہ بوجھ اُٹھا سکتے ہیں۔قادیان کی جماعت کے متعلق مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ایک ترجمہ کی جگہ وہ دو کا خرچ اپنے ذمہ لے گی اور لجنہ کا بھی جس رنگ میں چندہ ہو رہا ہے، اس رنگ میں ڈو کا بھی سوال نہیں۔بلکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا چندہ دو سے بھی بہت زیادہ ہوگا۔کیونکہ اس وقت تک بینہ قادیان کی طرف سے چھ ہزار تین سو کے وعدے آچکے ہیں اور ابھی ہزار بارہ سو روپیہ کے وعدو کی اور امید ہے (خطبہ صاف کرتے وقت آٹھ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں، گوئیں نے سارے ہندوستان کی لجنہ کے قتہ جو ایک ترجمہ کا خرچ لگایا تھا۔اس سے زیادہ کے وعدے قادیان سے ہی ہو چکے ہیں اور ابھی باہر کی ساری بنائیں باقی ہیں۔اسی طرح قادیان کی جماعت کے علاوہ صدر پنجمین کے کارکنوں نے بھی ایک ترجمہ کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔کارکنوں کے علاوہ دوسروں کے چندہ کا وعدہ ایک ترجمہ سے زیادہ کا ہو چکا ہے اور ابھی ہو رہا ہے۔اب ان جماعتوں یا افراد کی طرفف سے چین کا حصہ نہیں لیا جا سکا ، الحاج کی پیٹھیاں آرہی ہیں اور وہ اصرار کے ساتھ لکھ رہی ہیں کہ نہیں بھی اس چندہ میں حصہ لینے کا موقع دیجئے ملے حضور کو مخلصین جماعت کی بیتابی دیکھ کر سات تراجم اور بارہ بارہ کتابوں کے مکمل سیٹ کی از سر نو تقسیم کا اعلان کرنا پڑا جس کے مطابق ایک ایک ترجمہ قرآن اور ایک ایک کتاب کی اشاعت کا شروچ طلوعی اور اختیاری رنگ میں مندرجہ ذیل سات حلقوں پر تقسیم کر دیا گیا۔(1) الجنہ اماء الله سند دستان (۲) قادیان (س) جماعتہائے لاہور ، امرت سر، شیخوپورہ، گوجرانوالہ شیخو پورہ، گویرا نوالہ ، فیروز پور (۴) جماعتہائے دہلی بہار، یوپی، لدھیا ، ضلع انبالہ، ریاست پٹیالہ کلک (4) حیدر آباد دکن، میسور ، بمبئی ، مدراس اور اس کے ساتھ ملحقہ دیا تیں (۷) صوبه سر بهار و صوبہ سندھ سنگه ه "الفض" در ثبوت / نومبر س ش صفحه ا کالم انا لم۔+ صفوه کالم ا ب