تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 585
۵۶۴ حفاظی پیدا کرنے کی تحریک وہ ره ۲۴ شہادت / اپریل بیش کو حضرت خلیفہ اسي الثاني المعلم المو رضی اللہعنہ نے چھٹی تحریک جماعت میں حفاظ پیدا کرنے کی فرمائی ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ جماعت کے اندر اس مقدس فریضہ کی تکمیل کیلئے پہلے سے زیادہ توجہ پیدا ہوگئی۔سيدنا المصلح الموعود نے یکم ہے امتی ہی کو محبت امکانات تبلیغ کرنے کی ولولہ انگیز تحریک کے سامنے ساتویں اہم تحریک بیہ فرمائی کہ دنیامیں تبلیغ اسلام کے لئے ہزاروں میلتوں کی ضرورت ہے۔یہ ضرورت صرف اس طرح پوری ہو سکتی ہے کہ احمدی بدھ بھکشوؤں اور حضرت سیج کے حواریوں کی طرح قریہ قریہ، بستی بستی میں نکل کھڑے ہوں۔چنانچہ فرمایا :- دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں میلقوں کی ضرورت ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور اُن کے اخراجات کون برداشت کرے۔میں نے بہت سوچا ہے۔مگر بڑے غور و فکر کے بعد سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اخت تیار کیا گیا تھا اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل بھاؤ اور تبلیغ کرو یجب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں نہیں ٹھہر نا پڑے اس لیستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی حکمت سے یہ بات اُمت کو سکھائی ہے۔آپ نے فرمایا ہر بستی پہ باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔ایک صحابی نے عرض کیا۔یا رسول الله اگر بستی والے کھانا نہ کھلائیں تو کیا کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا۔تم زیر دستی اُن سے ملے لو۔گویا ہمارا حق ہے کہ ہم تین دن ٹھہریں اور بستی والوں کا فرض ہے کہ وہ تین دن کھانا کھلائیں۔میں سمجھتا ہوں اس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ کے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے۔اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کر تم اُن سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہوگی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا وہ اپنے پاؤں سے خاک له الفضل ۲ تا جولائی ہش مند ۳ کالم ، +