تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 570 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 570

اگر ساری امت ہی حسن اور جنید ہوتی تو وہ درود اور وہ چھین جوان بزرگوں کی وفات پر بلند ہوئیں یوں بلند نہ ہوتیں۔بدقسمتی سے اکثر لوگ رونا بھی بھانتے ہیں۔اظہار کم کرنا بھی جانتے ہیں گرا کر روان تعالی کیلئے زندگی وقف کرنا اور کام کرنا نہیں جانتے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا پر خون وغم کی چادر پڑی رہتی ہے۔اگر سب کے سب لوگ دین کی خدمت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگے ہوتے تو دنیا کامرانی اور علم ایسے بلند معیار پر آجا تاکہ کسی قابل قدر خادم اسلام کی وفات پر جو یہ احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ فکر لاحق ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کرینگے یہ کبھی نہ ہوتا۔میر محمد اسحاق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجو د تھے۔در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر اگر کسی کو تھا تو ان کو۔رات دن قرآن وحدیت لوگوں کو پڑھا نا اُن کا مشغلہ تھا وہ زندگی کے آخری دور میں کئی بار موت کے منہ سے بچے جلسہ سالانہ پر وہ ایسا اندھا دھند کام کرتے۔کہ کئی بار اُن پر نمونیہ کا حملہ ہوا۔ایسے شخص کی وفات پر طبعا لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے ؟ لیکن اگر ہماری جماعت کا ہر شخص ویسا ہی بننے کی کوشش کرتا تو آج یہ احساس نہ پیدا ہوتا۔جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہو تو کسی کا رکن کی وفات پر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم کیا کریں گے؟ بلکہ ہ شخص بجانتا ہے کہ ہم سب یہی کر رہے ہیں۔عزیزہ اور دوست کی جدائی کا غم تو ضرور ہوتا ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ اب اس کا کام کون سنبھالے گا۔موت کا ریچ تو لازمی بات ہے گر به درج مایوسی پیدا نہیں کرتا۔بلکہ ہر شخص ایسے موقعہ پر اللہ تعالے کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے وقت پر چاروں کونوں کو سنبھال لیا تھا۔احباب کی اس غلطی کی وجہ سے کہ ہر ایک نے وقت پر اپنے آپ کو سلسلہ کا واحد نمائندہ تصویر نہ کیا اور اس کے لئے کوشش نہ کی۔آج میر صاحب کی وفات ایسا بڑا نقصان ہے کہ نظر آرہا ہے کہ اس نقصان کو پورا کرنا آسان نہیں حضرت مسیح مولود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اس طرزہ کے آدمی تھے۔ان کے بعد حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے اور تیرے اس رنگ میں میر صاحب رنگین تھے اور اُن کی وفات کا بڑا صدمہ اس وجہ سے بھی ہے کہ اُن بھی ہے اور لوگ جماعت میں موجود نہیں ہیں۔اگر اور لوگ بھی ایسے ہوتے تو بیشک اُن کی وفات کا صدمہ ہوتا۔ویسا ہی صدمہ عیسا ایک عزیز کی وفات ہوتا ہے مگر جماعتی پہل محفوظ ہوتا۔اور یہ دیکھ کر کہ اگر ایک آدمی فوت ہو گیا ہے تو خواہ وہ کسی رنگ کا تھا اس کی جگہ لینے والے کئی اور موجود ہیں۔جماعت کے