تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 569
۵۴۸ صاحب حضرت میر صاحب کی چار پائی کے پاس بیٹے پہلے دوسری قرآنی دعائیں پڑھ چکے تھے اور اب سورہ الیستین کی تلاوت کر رہے تھے۔جب حافظ صاحب موصوف سلام قولا مِن رَّبِّ رَّحِیمِ دین آیت ۵۸) پر پہنچے تو حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب نے زور سے یہ آیت دہرائی اور ساتھ ہی حافظ صاحب سے کہا کہ یہ آیت پھر پڑھئے بچنانچہ انہوں نے بھی اور دوسرے احباب نے بھی پھارہ پانچ بار یہ آیت رفت بھری آواز میں دوہرائی۔محافظ محمد رمضان صاحب سورہ ایسین اور قرآن کریم کے اور حصوں اور دعاؤں کی تلاوت ختم کر چکے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حافظ قدرت اللہ صاحب کو بلوایا۔جنہوں نے پھر سورہ الیسین کی تلاوت شروع کی جب آپ آیت سلام قولا من ربِّ رَّحِیہ پر پہنچے تو انہوں نے بھی یہ آیت بارہ بار پڑھی۔اسی دوران میں حضر میر صاحب نے آخری سانس لیا۔حضرت سیدنا الصلح الموعود اس وقت برآمدہ میں تشریف فرما تھے اور نماز مغرب پڑھنے کے لئے کھڑے ہونے والے ہی تھے کہ حضور کو حضرت میر صاحب کے المناک انتقال کی اطلاع دی گئی جس پر حضور فوراً اُس کمرہ میں تشریف لائے جہاں احمدیت کے اس بطل جلیل کی نعش رکھی تھی جس کی زندگی کا ایک ایک سانس اسلام اور احمدیت کی خدمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس کلمات کو پرنم آنکھوں سے پہنچانے کے لئے وقف رہا جس کا وجود شوکت اسلام کا نشان اور جس کی زباں شمشیر براں تھی اور جس کے دل و دماغ سے عشق رسول کے دریا رواں تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود حضرت میر صاحب کی نعش مبارک دیکھ کر رقت سے بھر گئے اور پرینم آنکھوں سے باہر تشریف لائے اور مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں لیے " نماز کے بعد حضرت امیر المومنین نے ایک درد انگیز تقریر کی جس میں فرمایا۔حرم امیر المومنین کی دردانگیز تقریر جب رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صحابہ کرام کے لئے وہ ایک موت کا دن تھا۔مگر جب حضرت ابو بکر نہ فوت ہوئے تو وہ تابعین جنہوں نے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کونہ دیکھا تھا اور اسلام حضرت ابوبکرین سے ہی سیکھا تھا ان کو اس وفاست کا شدید ترین صدمہ ہوا۔ولیسا ہی صدمہ جیسا کہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ہوا تھا۔اسی طرح ایک کے بعد ایک زمن کے لوگ گزرتے چلے گئے۔اور جب سارے گزر گئے تو کسی وقت عالم اسلامی کیلئے سن بصری یا جنید بغدادی کی وفات ایسے ہی صدمہ کا باعث تھی جیسی صحابہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ، مگر یہ احساس نتیجہ تھا اس بات کا کہ حسن بصری اور جنید بغدادی جیسے لوگ مسلمانوں میں بہت شان پیدا ہوتے تھے۔له الفص شہادت اپریل له مش صفحه ۲ کالم ۴ * " ٣ ہم