تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 553 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 553

۵۳۴ دو تو میں ان پر رات اور دن پہرہ کے لئے رکھی جاتی تھیں اور چونکہ اُن کا خرچ پچاس ساٹھ روپے روزانہ ہوتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ اس کا اُن کے دل پر بہت بوجھ ہے اور وہ بعض سہیلیوں سے کہتی ہیں کہ میری وجہ ان پر اس قدر بوجھ پڑا ہوا ہے۔مجھے کسی طرح یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے اُن کو تسلی دلائی کہ مریم اس کی بالکل فکر نہ کرو یہیں یہ خروج تمہارے آرام کے لئے کر رہا ہوں تم کو تکلیف دینے کے لئے نہیں۔اور اُن کی بعض پہیلیوں سے بھی کہا کہ ان کو سمجھاؤ کہ یہ خرچ میرے لئے عین خوشی کا موجب ہے اور میرا خدا جانتا ہے کہ ایسا ہی تھا۔یہانتک کہ ان کی بیماری کے لمبا ہونے پر میرے دل میں خیال آیا کہ خرچ بہت ہو رہا ہے روپیہ کا انتظام کس طرح ہوگا تو دل میں بغیر ادنی انقباض محسوس کئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں کو بھی دار الحمد اور اس کا ملحقہ باغ فروخت کر دوں گا۔میں نے دل میں کہا کہ اس کی موجودہ قیمت تو بہت زیادہ ہے لیکن ضرورت کے وقت اگر اسے اونے پونے بھی فروخت کیا جائے تو پچہتر ہزار کو وہ ضرور فروخت ہو جائے گی اور اس طرح اگر ایک سال بھی مریم کے لئے خرچ کرنا پڑا تو چھ ہزار روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سال تک ان کے خرچ کی طرف سے بے فکری ہو جائے گی۔اور یہی نہیں، میرا نفس مریم بیگم کے لئے اپنی جائداد کا ہر حصہ فروخت کرنے کے لئے تیار تھا تاکہ کسی طرح وہ زندہ رہیں خواہ بیمار کی ہی کی حالت میں۔گر کچھ دنوں کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ بیماری سے سخت اذیت محسوس کر رہی ہیں جو زخم کے درد کی وجہ سے ناقابل برداشت ہے۔تب میں نے اپنے رب سے درخواست کرنی شروع کی۔اے میرے رب تیرے پاس صحت بھی ہے پس تجھ سے میری پہلی درخواست تو یہ ہے کہ تو مریم بیگم کو صحت دے لیکن اگر کسی وجہ سے تو سمجھتا ہے کہ اب مریم بیگم کا اس دنیا میں رہنا اس کے اور میرے دین و دنیا کے لئے بہتر نہیں تو اسے میرے ربت پھر اسے اس تکلیف سے بچالے جو اس کے دین کو صدمہ پہنچائے۔اس دعا کے بعد جو اُن کی وفات سے کوئی آٹھ نو دن پہلے کی گئی تھی میں نے دیکھا کہ اُن کی درد کی تکلیف کم ہونی شروع ہو گئی مگر اُن کے ضعف اور دل کے دوروں کی تکلیف بڑھنے لگی۔ظاہری سبب یہی پیدا ہوا کہ ڈاکٹر بڑو پہ نے جین کے علاج کے لئے اب ہم انہیں سر گنگا رام ہسپتال میں لے آئے تھے انہیں افیون بھی دینی شروع کر دی تھی۔بہر حال اب انجام قریب آرہا تھا۔مگر اللہ تعالی پر امید قائم تھی، میری بھی اور اُن کی بھی۔وفات سے پہلے دن ان کی حالت نازک دیکھ کر اقبال بیگم رہو اُن کی خدمت کے لئے ہسپتال میں اڑھائی ماہ نہیں۔اللہ تعالے