تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 552 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 552

۵۳۳ ٹیکہ لگایا گیا جس کے خلاف مریم بیگم نے بہت شور کیا کہ یہ ٹیکہ مجھے موافق نہیں ہوتا۔اس کے بعد اس ٹیکہ کے متعلق مجھے لاہور کے قیام میں بڑے بڑے ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ مرحومہ کے مخصوص حالات میں وہ نیکہ واقعہ میں مضر تھا۔اس ٹیکہ کا یہ اثر ہوا کہ ان کا پیٹ یکدم پھول گیا۔اور اتنا پھولا کہ موٹے سے موٹے آدمی کا اتنا پیٹ نہیں ہوتا میں بیماری میں لنگڑاتا ہو وہاں پہنچا اور ان کی حالت زیادہ خطرناک پا کر لاہور سے کرنل ہیز کو اور امرت سر سے لیڈی ڈاکٹر وائن کو 16 بلایا۔دوسرے دن یہ لوگ پہنچے اور مشورہ ہوا کہ انہیں لاہور پہنچایا جائے جہاں سترہ دسمبر کو موٹر کے ذراجہ انہیں پہنچایا گیا۔کرنل کی رائے تھی کہ کچھ علاج کر کے کوشش کروں گا کہ دواؤں سے ہی فائدہ ہو بجائے چنانچہ، ارد سمیر سے آٹھ نو جنوری تکہ وہ اس کی کوشش کرتے رہے۔گر آخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اپریشن کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر میر محمد المعیل صاحب کی رائے اس کے خلاف تھی۔مگر اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آتا تھا اس لئے میں نے مرحومہ سے ہی پوچھا کہ یہ حالات ہیں۔تمہارا ہو منشاء ہو اس پر عمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپریشن کرواہی ہیں۔گو مجھے اس طرح محفوظ الفاظ میں مشورہ دیا مگر ان کے ساتھ رہتے والی خاتون نے بعد میں مجھ سے ذکر کیا کہ وہ مجھ سے کہتی رہتی تھیں کہ دعا کرو کہ کہیں وقت پر حضرت صاحب کا دل اپریشن سے ڈرنہ بھائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نزدیک اپریشن کو ضروری سمجھتی تھیں۔بہر حال جودہ جنوری کو ان کا اپریشن ہوا۔اس وقت ان کی طاقت کا پورا خیال نہ رکھا گیا اور پندرہ جنوری کو ان کے دل کی حالت خراب ہونی شروع ہو گئی۔اس وقت ڈاکٹروں نے توجہ کی اور انسانی خون بھی جسم میں پہنچایا گیا اور حالت اچھی ہو گئی اور اچھی ہوتی گئی۔یہانتک کہ ۲۵ تاریخ کو مجھے کہا گیا کہ اب چند دن تک ان کو ہسپتال سے رخصت کر دیا جائے گا اجازت لے کر چند دن کے لئے قادیان آگیا۔میرے قادیان بجانے کے بعد ہی ان کی حالت خراب ہو گئی اور زخم جیسے مندمل بتایا جاتا تھا پھر دوبارہ پورا کا پورا کھول دیا گیا مگر مجھے اس سے غافل رکھا گیا اور اس وجہ سے میں متواتر ہفتہ بھر قادریان ٹھہرا رہا۔ڈاکٹر غلام مصطفے جنہوں نے اُن کی بیماری میں بہت خدمت کی بہت اہم اللہ احسن الجزاء انہوں نے متواتر تاروں اور فون سے تسلی دلائی اور کہا کہ مجھے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں لیکن جمعرات کی رات کو شیخ ابشیر احمد صاحب کا فون ملا کہ برادریم سید جلیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ہمشیرہ مریم کی حالت خراب ہے آپ کو فوراً آنا چا ہئیے جس پر میں جمعہ کو واپس لاہور گیا اور اُن کو سخت کمزور پایا۔یہ کمزوری ایسی تھی کہ اس کے بعد تندرستی کی حالت اُن پر پھر نہیں آئی۔