تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 544
۵۲۵ کے پہنچنے پر جماعت کے دوسرے احباب کو اُٹھانے کا موقعہ دیا گیا اور جنازہ گاہ تک ہزاروں افراد نے چار پائی کو کندھا دینے یا کم از کم درد بھری دعاؤں کے ساتھ ہاتھ لگانے کا ثواب حاصل کیا صنفیں کھڑی ہونے کے بعد اندازہ لگایا گیا تو سات اور آٹھ ہزار کے درمیان صرف مردوں کی تعداد تھی جو خواتین از خود باغ میں پہنچ گئی تھیں وہ اس کے علاوہ تھیں۔ان کی تعداد بھی دو ڈیڑھ برا سے کم نہ ہوگی۔نمازجنازہ میں شامل ہونے والوں کی اتنی بڑی تعداد یہاں پہلے نہیں دیکھی گئی۔نماز جنازه شروع کرنے سے قبل حضرت امیرالمومنین نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا۔پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔دوسری تکبیر کے بعد درود شریف اور تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔چونکہ یہ آخری امداد ہے جو ایک بھائی اپنے بھائی کی یا ایک بھائی اپنی بہن کی کرتا ہے سوائے قریبی تعلق والوں کے کہ وہ فوت ہونے والوں کو پھر بھی یاد رکھتے اور اُن کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اس لئے چاہیئے کہ آج ہوا اس قسم کی دعاؤں کا خاص موقعہ ہے خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کی جائیں۔اس کے بعد حضور نے نماز جنازہ پڑھائی اور نماز کے بعض حصوں میں کسی قدر اونچی آواز سے جسے صرف قریب کے چند افراد سُن سکتے تھے ، نہایت تضرع اور رقت کے تھے مسنون دعائیں کیں جنہیں سننے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔یوں بھی تمام مجمع نے نہایت خشیت اور رقت کے ساتھ مرحومہ مغفورہ کے واسطے دعائیں کیں۔نماز جنازہ کے بعد جنازہ مقبرہ بہشتی کے اس خاص احاطہ میں لے جایا گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة دالسلام کا مزار ہے۔قبر کی جگہ حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے صبح ہی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بہشتی مقبر میں بھجوا کر معین فرما دی تھی جو حضرت سیدہ امتہ الحی صاحب مرحومه مغفورہ اور حضرت سیدہ سارہ بیگم مرحومه مغفورہ کی قبروں کے ساتھ جانب مشرق اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریباً قدموں میں تھی۔میت کو لحد میں اتارنے کے لئے حضرت سیدنا المصلح الموعود ، جناب میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ، صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (حصر سیدہ مرحومہ کے اکلوتے بیٹے ) اور صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب اُتر ہے۔اور چار پائی پر سے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے صاحبزادگان نے نیت کو اُٹھایا۔لحد میں رکھنے اور لحد پر اینٹیں چھننے کے دوران میں حضرت امیر المومنین نہایت ہی درد بھری آواز سے (جو بعض دفعہ شدت رقت و غم کی وجہ سے بالکل مدھم ہو جاتی تھی مسنون دعائیں کرتے رہے۔جب لحد تیار ہو چکی تو حضور نے دعائیں کرتے ہوئے قبر میں تین دفعہ مٹی ڈالی۔پھر دوسرے احباب کو مٹی ڈالنے کا موقعہ دیا گیا۔اس کے بعد حضور نے سیدہ مرحوم مغفورہ کی قبرپر تمام جمع میت نہایت وقت کے ساتھ کسی قدر دیجی آواز میں دعا فرمائی اور اپنی پیاری رفیقہ حیات کو اپنے آسمانی بادشاہ کی سپردگی میں دے دیا۔