تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 545 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 545

۵۲ چونکہ سورج غروب ہونے میں تھوڑا ہی وقت تھا اس لئے حضور نے باغ میں اس جگہ جہاں جنازہ پڑھا گیا تھا عصر کی نماز پڑھائی۔اس کے بعد حضور پھر سیدہ مرحومہ کی قبر پر تشریف لائے اور السلام علیکم کہہ کر اور پھر اُسے دوہرا کر واپس تشریف لے آئے لیلہ سیدنا المصلح الموجود کی طرف سے سیدہ امتیام راضی شد نیا کی وفات گوپر پیری جماعت کے لئے اگرچہ المیہ کی حیثیت رکھتی تھی مگر طبعی طور پر اس کا سب سے زیادہ صدمہ جماعت کو ضار بالقضاء کی مین خود سيدنا المصلح الموعود کو پہنچا لیکن حضور نے اس موقعہ پر نہ صر ۱۳۱۳ پیش بیمثال رضا بالقضاء کا نمونہ دکھایا بلکہ پوری زخم رسیده جماعت کو صبر کی تلقین فرمائی۔چنانچہ ارامان /مارچ سے کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- اس ہفتے جو میرے گھر میں ایک واقعہ ہوا ہے لینی میری بیوی اہم طاہر فوت ہوتی ہیں اس کے متعلق میں دکھتا ہوں کہ جماعت میں بہت بڑا درو پایا جاتا ہے خصوصاً عورتیں اور غریب عورتیں بہت زیادہ اس درد کو محسوس کرتی ہیں کیونکہ میری یہ بیوی جو فوت ہوئی ہیں ان کے دل میں غرباء کا خیال رکھنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔ان کی بیماری کے لیے عرصہ میں جماعت نے جس قسم کی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے وہ ایک ایسی ایمان بڑھانے والی بات ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ مومن واقعہ میں ایک ہی جسم کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔جو لوگ ہمارے گھر کے حالات جانتے ہیں اُن کو معلوم ہے کہ مجھے اُن سے شدید محبت تھی لیکن با وجود اس کے جو خدا تعالئے کا فعل ہے اس پر کسی قسم کے شکوہ کا ہمارے دل میں پیدا ہونا ایمان کے بالکل منافی ہوگا۔یہ چیز اللہ تعالے ہی کی ہے ہمیں رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے یہی تعلیم دی ہے جب کوئی شخص وفات پا جائے ہمارا اصل کام یہی ہوتا ہے کہ ہم کہہ دیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ کیسی نطبیعت تعزیت ہے ہما ر ہے ریت کی طرف سے ! اس سے پڑھ کر بندہ بھلا کیا تعزیت کو سکتا ہے؟" اس کے بعد اس خدائی تعزیت کی نہایت لطیف تشریح کی اور فرمایا :- یہ زمانہ اسلام کی فتوحات کا ہے۔بادشاہ کا کوئی نوکر یہ جرات نہیں کر سکتا کہ جس وقت اس کا بادشاہ کامیابی حاصل کرکے واپس آٹا ہو اور فتح کا جشن منارہا ہو تو وہ اس سے کسی کس کے کم کا اظہار کرے خواہ الفضل " در امان مارچ ۳۳ به بیش صفحه ۱-۲ " مید A