تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 542
۵۲۳ فصل دوم احول ماتا کی المناک وفات سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مصلح موعود کی نسبت یہ گیر اسرار اور ذو الوجوہ الہام ہوا کہ إِنَّا اَرْسَلْنَهُ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُمَتُ وَ رَعْدٌ وَبَرْقٌ - كُلِّ شَيْءٍ تَحْتَ قَدَمَيْهِ " یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیمہ ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اس بڑے سینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو۔یہ سب چیزیں اس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں۔“ سے اس الہام کے عین مطابق مصلح موعود سے متعلق انکشاف کے ساتھ ہی جہاں اسلام اور احمدیت کی شاندار ترقیات اور عظیم الشان فتوحات کے نئے سے نئے دروازے کھول دیئے گئے وہاں حوصلہ شکن حوادث اور صبر آزما ابتلاؤں کا ایک متوازی سلسلہ بھی جاری ہو گیا۔اس تعلق میں انکشات مصلح موعود کے معاً بعد جماعت احمدیہ کو حضرت سیدہ مریم بیگیم رابہ طاہر اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی مفارقت کے پے در پے اور انتہائی تکلیف دہ اور زہرہ گداز صدمات سہنے پڑے۔ان مقدس اور مبارک اور محسن وجودوں کی وفات جماعت احمدیہ کے ہر طبقہ کے لئے ایک قیامت صغریٰ اور حشر کا نمونہ تھی۔ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل غمزدہ اور زخم رسیده ! حضرت ام مظاہر کے انتقال نے اگر جماعت کے غریبوں یتیموں اور مسکینوں کو محسوس کرا دیا کہ اُن کی ایک شفیق اور مہربان ماں کا سایہ اُٹھ گیا تو حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کی جدائی پر وہ فرط غم سے کہ اُٹھے کہ ہمارا باپ بھی آج رخصت ہوا۔حضر اور سیدہ عطیہ ح سیدہ امہ طاہر کے جنازہ اور حضرت بی وام اشتر گنگارام اسپتال لاہور میں زیر سلاح تھیں کہ آپ کی مبارک و مطہر روح هر امان / مارچ پر میش کو بارگاہ تجہیز و چین کے رقت انگیر الہی میں پہنچ گئی۔اس حادثہ عظمیٰ کی دردناک اطلاع اسی روز با سط تاریخ الهام ، راگست کلاه سبز اشتہار موجو یکم دسمبر هار صفحه ۱-۲ تذكرة وطابع ورم صفر ۱۵۴- ۱۵۵ به سه الفصل در امان ماری اور میشه /