تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 498
ایک حکمت کا نشان دیتا ہوں۔اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا، سوئیں نے تیری تفریحات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بیانیہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے، تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے۔ار فتح اور ظفر کی کلی تجھے ملتی ہے۔اسے منظر تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا۔تاوہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور ناحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام خوستوں کے ساتھ بھاگ بجھائے اور تا لوگ یہ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفے کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کا راہ ظاہر ہو جائے۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) مجھے ملیگا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اُس کا نام منمحو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے۔وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے سیمی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہجر کیونکہ خدا کی رحمت و غیور ی نے اسے اپنے کلمہ تمجیدے ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دال کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پیر کیا جائے گا اور وہ تین کو چارہ کرنے والا ہو گا اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے، روشنیہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند: مظہر الاول والاخر منظمة الحق والعلاء كان الله نزل من السمار