تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 461
۴۵۰ ایک حصہ دوستوں کا بے شک ایسا ہے کہ اگر میں بیمار ہوں اور کہوں کہ بیمار ہوں تو افسردگی کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتا ہے۔مگر ایک حصہ تو ایسا ہے کہ جب میں کہوں، لیکن بیمار ہوں تو کہتے ہیں کہ کوئی ہرج نہیں ہم سواری کا انتظام کر کے لے چلیں گے اور آپ کو ہر گز کوئی تکلیف نہ ہوگی۔گویادہ اپنی دعوت کو نماز سے بھی زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔میں بعض اوقات کہتا ہوں کہ نماز تو مجھے ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد میں جا کر ادا کرنا معاف کر دیا ہے مگر آپ کی دعوت معاف نہیں ہو سکتی ہے یہ تمام تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا :- پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی اسلام کے بہت سے کام کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بہت سے صحابہ فوت ہو چکے ہیں۔اب بہت تھوڑے بہاتی ہیں۔اور اُن میں سے بھی وہ جن کو حضور علیہ السلام کی صحبت نصیب ہوئی اور جن کو حضور علیہ السلام کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم، حدیث اور اسلامی علوم عطا کئے وہ تو اب بہت ہی تھوڑے ہیں۔مخالفین نے اسلام کے ہر پہلو پر اور نئے نئے رنگ میں اعتراضات کئے ہیں۔اس لئے ضرورت ہے کہ اسلام کے تمام پہلوؤں پر نئے سرے سے روشنی ڈالی جائے۔ورنہ خطرہ ہے کہ پھر وہی گمراہی دنیا میں نہ پھیل بھائے جیسے دُور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام دنیا میں تشریف لائے۔پیس ان کاموں سے جو دوست مجھ سے ہی کروانا ضروری سمجھتے ہیں ، بہت بڑا کام باقی ہے اور شاید اس کام کا ابھی چوتھا حصہ بھی مکمل نہیں ہوا۔اور ضرورت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالے ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم میں سے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے صحبت یافتہ ہیں اور جنہوں نے حضور کی دعاؤں سے حصہ وافر پایا ہے یا جن پر آپ کا علم بذریعہ الہام اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، اُن کی موجودگی میں یہ کام مکمل کر سکیں تا آئندہ صدیاں اسلام سے قریب تر ہوں ، دور تر نہ ہوں۔یہ اس کام کے کرنے کا زمانہ ہے۔مگر موجودہ حالت یہ ہے کہ میں اس سال کا اکثر حصہ بیمار رہا ہوں اور کوئی کام نہیں کر سکا لیٹے لیٹے ڈاک دیکھ لی یا بعض خطوط کے جواب نوٹ کرا دیئے تو یہ کوئی کام نہیں ہے۔اصل کام اسلام کی اس روشنی میں تو ضیح و تشریح له ۱۴ " الفضل" در نبوت / نومبر ۳۲۳ مه سبق صفحه ۲ :