تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 460
۴۴۹ ہ تم سے بہت زیادہ مخلص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں گذرے ہیں اور مجھ سے بے انتہار شان کا زیادہ آدمی اُن میں موجود تھا۔مگر اُن کے اخلاص کا یہ رنگ نہ تھا اور نہ وہ لوگ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے اس قربانی کا مطالبہ کرتے تھے جس کا مجھ سے کیا جاتا ہے۔میکس اسے اخلاص نہیں بلکہ عدم علم اور دین کی نا واقفیت سمجھتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑھے ہوئے نکاح بہت ہی محدود ہیں۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ذہنیت یہ ہو رہی ہے کہ اسلام زندہ رہے یا مرے ، اسلامی علوم پر کتابیں لکھی جا سکیں یا نہ لکھی جاسکیں مگر یہ ضروری ہے کہ ہمارا نکاح خلیفہ پڑھے۔۔۔۔خواد کتنا ضروری کام کیوں نہ ہو ، خلیفہ کی صحت اجازت دے یا نہ دے ، خوابی صحت کی وجہ سے اس کی عمر ۱۰ سال کم ہوتی ہے تو ہو جائے مگر یہ ضروری ہے کہ اُسے ولیمہ کی دعوت میں آنا چاہئیے۔ایک وقت تک میں نے اس بات کو برداشت بھی کیا جبکہ میرا ایسا کرنا اسلام کی خدمت کے راستہ میں روک نہ بن سکتا تھا۔مگر اب میری صحت ایسی نہیں رہی کہ سوائے اس کام کے جو خدمت اسلام کا میرے ذمہ ہے یا کسی ایسے کام کے ہو صحت کو درست کرنے والا ہو کوئی اور کام کر سکوں۔اگر میں ایسا کروں تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ میں اس کے لئے اسلام کے کام کو قربان کروں اور اس کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔مجھ سے جب بھی صحت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو۔۔۔تین جواب ہی میں دے سکتا ہوں۔یا کہوں گا اچھا ہوں یا بیمار ہوں اور یا یہ کہ نیم بیمار اور نیم تندرست ہوں۔مگر جب میں کہتا ہوں کہ اچھا ہوں تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں جیسے چراغ سحری ٹمٹماتا ہے۔اگر ایک دن بیچ میں حالت اچھی ہو جاتی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں کہ میں تندرست ہو گیا ہوں۔مُردہ بھی تو مرنے سے پہلے سانس لے لیتا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اگر ایک دن طبیعت اچھی رہتی ہے تو دوسرے دن پھر خراب ہو جاتی ہے۔مومن کا کام ہے کہ ایک دن کے لئے بھی تکلیف میں کمی ہو۔تو کہے الحمد للہ اچھا ہوں۔مگر حالت یہ ہے کہ ایک دوست آتے ہیں۔پوچھتے ہیں۔کیا حال ہے۔میں کہہ دیتا ہوں الحمد للہ اچھا ہوں۔تو وہ جھٹ کہہ دیں گے اچھا پھر شام کو دعوت ہمارے ہاں ہے۔یا اگر میری حالت کچھ اچھی ہے تو میں کہتا ہوں۔الحمد للہ پہلے سے اچھا ہوں۔تو وہ کہیں گے۔اللہ تعالے فضل کرے گا کل تک بالکل صحت ہو جائے گی اور کل دوپہر ہمارے ہاں آپ دعوت قبول فرمائیں۔