تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 448
کتب و اخبارات ملا کر تین ہزار سالانہ خرچ ہے۔کے ۳ کام اس لائیبریر ی سے ہر طبقہ کے شوقین اور علم دوست لوگ استفادہ کرتے ہیں۔اس کا باقاعدہ انتظام سکوڑی بیت المال جماعت احمدیہ یاد گیر کے سپرد ہے مستقل ممبروں کے لئے قواعد و ضوابط ہیں۔برمن یہ لائیبریری اپنی طرز کی تعلقہ یاد گیر میں ایک ہی ہے اور ہر روز ترقی کرتی جاتی ہے، کیا کتابوں کے ذخیر کی وجہ سے اور کیا دار المطالعہ میں آکر استفادہ کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے۔یہ حسن کی ان مساعی جمیلہ میں سے ایک ہے جو اس نے اشاعت علوم اور مذہب سے دلچسپی پیدا کرنے کے لئے کی ہیں۔اس قسم کی لائیبریری ہر شخص قائم نہیں کر سکتا۔یہ حکومت کا کام ہے مگر حسن من جس کے دل میں ملک اور قوم کی خدمت کا بے پناہ جذبہ تھا اور جو چاہتا تھا کہ گرے ہوئے انسانو کو اٹھائے ، اُن میں علمی مذاق پیدا ہو ، ان کی معاشی حالت درست ہو اور ان کے اندر اخلاق فاضلہ پیدا ہوں۔اس نے اس ضرورت کو اپنی ذاتی ضرورتوں پر مقدم کر لیا۔اپنی ضروریات زندگی میں کفایت اور سادگی پیدا کر کے دوسروں کو جو اُٹھ نہ سکتے تھے اپنے اموال کو اُن کے اُٹھانے پر خرچ کر دیا۔اور آج اس کے وفات پا جانے پر بھی یہ سلسلہ بدستور قائم ہے۔الحمد لہ علی ذلک نے اس سال بنگال میں انتہائی ہولناک قسط رونما ہوا جس میں ہزارو بنگال اور اریبہ کے قحط زدگان کی امام رگ مردان و ترکشی بسیار اور قسم سم کے دوسرے دہائی لوگ امراض کا شکار ہو گئے معصوم اور شیر خوار بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے اپنی ماؤں کی گود میں سسک سسک کر مر گئے۔خاوند تنگ آکر اپنی بیویوں اور بال بچوں کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے۔مائیں اپنے جگر گوشوں اور بچوں کو بازاروں اور گلیوں میں آوارہ چھوڑ گئیں۔کئی بیگہ والدین نے اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں دریا برد کر کے خود کشی کر لی۔ایسے بیسیوں روح فرسا نظارے دیکھنے میں آئے کہ ماں بھوک کی وجہ سے مرچکی ہے مگر اس کا شیر خوار بچہ اس کی خشک چھاتیاں چوس رہا ہے۔ان ہوشہ یا ایام میں جماعت احمدیہ کلکتہ کے امیر بنا اب شیخ دوست محمد صاحب شمس اور مبلغ کلکته مولوی خلق الرحمن صاحب بنگالی تھے۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیم المعلوۃ والسّلام کے پوتے اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے فرزند ساحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب بھی ان دونوں کلکتہ میں مقیم اور ایک معزز عہدہ پر فائز تھے۔جونہی ه حیات حسن احمدی مرتبه عرفانی الکبیرات نامت و ملکه مضمون ید اعم از احمد صاحب بقیع مسلط بر مین پی اور امنیت شد عبد الفصل ۲۳ نیوت / نومبر میں متحد ہم) سے فائوڈو سے حال کی پور " ۱۳۳۲