تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 447
وم اتر آئیں اور مانی جان کو اپنا گھوڑا دے کر روانہ کر دیا اور آپ پیدل چل پڑیں“ لے حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب جماعت احمدیہ یاد گیر کے روح رواں اور بہت احدی لائیبریری یادگیر مخیر اور بلند پایہ بزرگ تھے۔آپ نے اپنی ذاتی کوشش سے یاد گیر میں ایک شہندا احمدیہ لائبریری قائم کی اور اس کا افتتاح اا ظہور / اگست یہ ہش کو عمل میں آیا۔اور مولوی محمد اسماعیل صاب فاضل وکیل اس کے پہلے ناظم مقر ہوئے لیے یہ لائبریری آجتک قائم ہے اور اس علاقہ میں جماعت احمدیہ کی ایک بہت بڑی علمی ضرورت کو پورا کر رہی ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ( عرفانی الکبیر) نے حیات حسن " میں اس لائبریری کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے :- سلسلہ کی اشاعت اور عوام میں مذہبی اور علمی مذاق پیدا کرنے کے لئے حضرت حسن نے اللہ کو یادگیر بازارمیں احمدیہ لائیبریری کو قائم کیا حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص جو بذات خود عرفی دولت علم سے آشنا نہیں وہ اشاعت علم کا کس قدر جوش اپنے دل میں رکھتا ہے اور نہ صرف جوش بلکہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ لوگوں کے معلومات میں کس طرح اضافہ کیا جا سکتا ہے اور کس طرح ان میں علمی مذاق پیدا ہوسکتا ہے۔غرض ایک نیک مقصد کے پیش نظر یہ لائیبریری قائم کی گئی۔اور ایک فرد واحد کی طرف سے یہ پہلی لائیبریری تھی۔اس لائیبریری کے قیام اور اس کے ابتدائی اخراجات تو خود حسن اور اس کے خاندان کے افراد نے اپنے ذمہ لئے پھر حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی نے گرانت در امداد دی اور ا کے جاریہ اخراجات کے لئے سالانہ اعانت مقرر کی تھی۔وہ لائیبر پیری جو چند کتابوں سے شروع ہوئی۔آج اس میں چار ہزار کتابیں موجود ہیں جو تفسیر، حدیث ، فقہ، سيرة وسوانخ ، تاریخ ، کتب سلسله احمدیہ جو خود حضرت مسیح موعد وعلیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء سلسلہ کے علاوہ علمائے سلسلہ کی تقصاصات مشتمل ہیں۔اور ان کے علاوہ مذاہب مختلفہ ، ہر قسم کی اخلاقی کہانیاں ، اخلاقی ناول (انگریزی، اردو) گویا ہر مذاق کے لوگوں کے لئے ایک ذخیرہ جمع کر دیا گیا۔اور عام ملکی اور غیر ملکی اخبارات کے علاوہ سلسلہ کے اخبارات و رسائل موجود رہتے ہیں۔ماہانہ اوسطاً ۶۰۰ افراد اس سے مستفید ہوتے ہیں۔گویا ہ ہزار کے قریب افراد دارالمطالعہ میں آتے ہیں۔ایک ہزار روپیہ سالانہ اس پر شریج ہوتا ہے۔اور خرید ه تابعین اصحاب احمد حصد سرم صفحه ۳۰۰ - ۳۰۲ مرتبه جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے قادیان ناشر احمدیہ بیڈ پو ریوہ له " الفضل " ۲۸ ظهور ۱۳۳۲ بیش صفحه ۶۰۴ 1941 پاکستان) طبع اول دسمبر ۱۹