تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 446 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 446

(۴۳۵ صاحب نے امام الصلوۃ کے فرائض انجام دیئے بے قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اس سفر کا ایک گھر یلو واقعہ حسب ذیل الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ چونکہ گذشتہ سال ایک لمبی بیماری سے اُٹھے تھے۔اس لئے قیام ڈلہوزی کے آخری ایام میں حضور نے صحت کے خیال سے بعض تفریحی سیروں کا انتظام فرمایا تھا۔ان سیروں میں سے آخری سیر کالا ٹوپ پہاڑ تک کی تھی جو ڈلہوزی سے قریباً چھ سات میں چنبہ کی جانب واقع ہے۔اس ٹرپ میں یہ خاکسار بھی ساتھ تھا۔مستورات کے لئے عموما گھوڑوں کا انتظام تھا: اور مرد پیدل تھے۔اور ٹرپ کا اہتمام بدستور رسیده ام طاہر احمد کے ہاتھ میں تھا۔چونکہ سیدہ موصوفہ نے انتظام وغیرہ کی وجہ سے سب سے آخر میں آنا تھا۔اس لئے میں نے دیکھا کہ جب ہم اپنے گھروں سے ایک میل نکل آئے تو سیدہ مرحومہ والے گھوڑے پر اُن کی بجائے ہماری بڑی مسمانی آرہی ہیں۔مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ کیا بات ہے۔اور میں نے اس کا ذکر حضرت امیر المومنین سے بھی کیا۔اس پر میں نے دیکھا کہ حضور کے چہرے پر کسی قدر فکر اور اس کے ساتھ ہی رینج کے آثار ظاہر ہوئے۔فکر اس لئے کہ سیدہ ام طاہر کی غیر موجودگی میں کہیں انتظام میں کوئی دقت نہ ہو اور رینج اس لئے کہ ٹرپ کو رونق دینے والی رفیقہ حیات پیچھے رہ گئیں۔مگر حضور نے زبان سے صرف اس قدر فرمایا کہ سارا انتظام ام ظاہر نے ہی کیا ہوا ہے اور انہیں ہی معلوم ہے کہ کونسی چیز کہاں ہے اور کونسی کہاں ، کسی اور کو تو کچھ خبر نہیں میں نے اشارہ سمجھ کر جلدی سے ایک شخص کو آگے بھگا دیا کہ ڈاک خانہ کے چوک کے پاس بنا کر کوئی گھوڑا تلاش کرو۔اور اگر مل جائے تو فوراً ہے کہ پہلے آؤ اور سیدہ ام طاہر کو لے آؤ۔اور خدا کا شکر ہے کہ گھوڑا فوراً مل گیا۔مگر ابھی یہ گھوڑا واپس جاہی رہا تھا کہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک خادمہ کونے کہ پیدل ہی چلی آرہی ہیں۔حالانکہ پیدل چلنے سے انہیں سخت تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔اس وقت میں نے محسوس کیا کہ انہیں دیکھ کر گویا حضرت صاحب کا فکر اور رینج سب دُور ہو گیا اور ہم خوشی خوشی آگے روانہ ہو گئے۔ان کے پیچھے رہنے کی یہ وجہ معلوم ہوئی کہ جب وہ گھوڑے پر چڑھ کر روانہ ہو رہی تھیں تو حضرت ام المومنین اطال اللہ علیہا نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ شوکت (ہماری بڑی عمانی صاحبہ) نے ضرور جانا ہے۔ان کے لئے ضرور انتظام کردو۔سیدہ موصوفہ جنہیں حضرت اماں بھان سے انتہائی محبت اور اخلاص تھا۔فوراً اپنے گھوڑے سے له الفضل " ۲۲ احسان / بون ۲۳ س ش صفحه ۱ کالم ۲ : 51977