تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 444 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 444

کام علیہ السلام کی یاد میں چند منٹ میں بھی اسی طرح کھڑا رہتا ہوں۔میر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عزیز تھے اور آپ نے حضور کے دامن تربیت میں پرورش پائی تھی اور نہایت قریب سے حضور کو دیکھا تھا۔اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت میر صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کس قدر عشق و محبت اور والہیت تھی سے ذوق این باده نیابی بخدا تا نچشی نے مقدمہ بھا مڑی کے معاملہ میں پولیس نے جماعت استمدید نٹ میں گوردا پلور کا مخالفانہ رویہ کے خلاف انتہائی معاندانہ رویہ اختیار کیا اور سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور سردار وریام سنگھ صاحب نے تو خاص طور پر مخالفین احمدیت کی پرزور حمایت کی چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی سر نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ دو موضع بھا مڑی میں جو جھگڑا ہوا تھا اس میں ایک سکھ سپر نٹنڈنٹ پولیس سردار وریام سنگھ صاحب نے جو ان دنوں ضلع گورداسپور میں متعین تھے ظاہر طور پر ہماری جماعت کے خلاف حصہ لیا تھا۔ہماری جماعت کے خلاف ان کے دل میں سخت غصہ تھا۔ایک دفعہ چو ہدری فتح محمد صاحب سیال اُن سے ملے تاکہ اُن کو جماعت کے متعلق صحیح معلومات بہم پہنچائیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کی جماعت سے بہت شکوہ ہے کیونکہ آپ کی جماعت سکھوں کی دشمن ہے۔بھاڑی کے کیس میں با وجود اس کے کہ جو حالات ہماری جماعت نے پیش کئے وہی صحیح تھے اور ہمارے مقابل پر جو باتیں فریق مخالفت نے پیش کیں وہ صریح غلط تھیں۔ان سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے فریق مخالف کی باتوں کو درست تسلیم کیا اور ہماری باتوں کو غلط سمجھا۔بہر حال ہماری طبیعت پر اُن کے متعلق بُرا اثر تھا۔اور ان کو گورداسپور سے تبدیل کرانے میں بہت کچھ حصہ ہمارا بھی تھا۔اُن کے ایک ماتحت افسر نے خلا قانون کام کیا۔سردار وریام سنگھ صاحب نے اپنے ماتحت افسر کی حمایت کی۔ہماری جماعت نے اس معاملہ ہیں ان کی مخالفت کی اور افسران بالا کو صحیح حالات سے آگاہ کر دیا۔سردار وریام سنگھ صاحب یہ سمجھے کہ مجھے ذلیل کرنے کے لئے جماعت نے یہ سب کچھ کیا ہے جب ڈپٹی کمشنر صاحب کو صحیح حالات پہنچاتے گئے تو انہوں نے اس تھانیدار کو سزا دینی چاہی۔اس بات پر سپرنٹنڈنٹ صاحب پونیں ل "الفرقان حضرت میر محمد اسحاق نمبر ستمبر اکتوبر شانه صفحه ۱۵۳