تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 443
بالکل مطابق تھا۔لیکن تقویٰ کا یہ حال تھا کہ ہر حال میں خدا سے ڈرتے کہ اے شیخ محمد احمد صاحب مظہر کپور ضلوی ایڈووکیٹ کا بیان ہے کہ دالت ہم چیند و کلار مقدمہ کی پیروی کرتے تھے۔دھار یوال یا گورداسپور میں پیشی ہوتی تھی۔دوران مقدمہ میں رمضان شریفت آگیا۔میر صاحب فجر کی نماز کے بعد مسجد اقصی قادیان میں درس دیکر بی دینی پوڈر ایوال پہنچ سجاتے۔باوجود مقدمہ کی پیشی کے آپ نے درس میں ناغہ نہ ہونے دیا۔(ب) چونکہ میرہ صاحب کی واپسی قادیان کو ہر روز ہو جاتی تھی۔اس لئے آپ خود روزہ رکھتے تھے۔اور احمدی و کلار کے لئے جو بوجہ مسافرت روزہ نہ رکھ سکتے تھے قادیان سے دوپہر کا کھانا پکوا کر اپنے ہمراہ لاتے تھے۔(ج) فریق مخالفت کے بعض اشخاص کو میر صاحب بڑی مہربانی سے عدالت سے باہر اپنے پاس بٹھاتے۔انہیں تبلیغ و تلقین کرتے اور کسی قسم کا بغض و کینہ آپ کی طبیعت میں نہ تھا۔(2) فریق ثانی کے وکیل نے میر صاحب پر جرح کی اور یہ سوال بھی کیا کہ بھابڑی والوں نے آپ کے جلسے میں مزاحمت کی اس لئے آپ کے دل میں ان کے خلاف غم و غصہ منہ وہ پیدا ہوا ہو گا ؟ میر صاحب ہی نے برجستہ جواب دیا کہ غم و غصہ نہیں بلکہ رحم و ہمدردی کے جذبات میرے دل میں آپ کے موکلوں کے لئے پیدا ہوئے۔اس جواب سے مجسٹریٹ منتقسیم اور محفوظ ہوا۔اور وکیل فریق ثانی شرمسد - (6) مجسٹریٹ میر صاحب سے با ادب پیش آتا تھا۔لیکن خاکسار نے دیکھا کہ میر صاحب جب عدالت کے کمرہ میں داخل ہوتے تو تین چار منٹ تک طزمان کے کٹہرے میں اکیلے اور غمزدہ سے ہو کر کھڑے رہتے۔ہم سب بھی تعظیماً کھڑے رہتے حتی کہ میر صاحب کٹہرے سے باہر نکلتے اور پھر ہم سب کرسیوں پر بیٹھے جاتے۔یہ ماجرا ئیں نے کئی بار دیکھا لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ میر است ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آخر ایک دن میں نے میر صاحب سے اس کا سبب دریافت کیا۔آپ چشم پر آب ہو گئے۔فرمانے لگے کہ آتما رام مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عدالت میں کھڑا رہنے پر مجبور کیا۔اس لئے جب کبھی مجھے عدالت میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو حضرت مسیح موعود 1441 له "الفرقان" حضرت میر محمد اسحاق مهر ماه ستمبر اکتوبر انه صفحه ۲۶ - ۰۲۷ که حال امیر میرا محبت ہائے احمدیہ شہر و ضلع لائل پور