تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 439
میں یہ فیصلہ کیا کہ حضرت صاحب کا یہ عتاب برداشت کر لوں گا کہ تم نے اپنے آدمیوں کو خشت باری سے کیونکہ اس وقت مجھے لاٹھیوں کے حملہ کا علم نہیں تھا، پٹوایا۔مگر دفاع کی اجازت نہ دی۔مگر یہ دوسری جہت کا عتاب میری طاقت سے باہر ہے کہ تم نے مارکیوں نہ کھائی اور لڑائی سے دوستوں کو بازکیوں نہ رکھا یا یہ عتاب میری برداشت سے باہر تھا۔واجود عُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔ونوٹ) اوپر کے مضمون میں میں نے صرف جلسہ و حادثہ بھاڑی کے متعلق اپنے چشمدید قریب سے منے ہوئے حالات درج کئے ہیں۔اور مخالفین نظاہری و خفی کی اُن کا رروائیوں کا ذکر نہیں کیا جو جنت سے باہر یا بعد میں ہوئی ہیں اور نہ دوسری زائیکر با توں کا ذکر کیا ہے ؟ لے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا پیغام بھاڑی کے تشویش ناک حالات کی اطلاع سید الطابت می تونی امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں پہنچی تو سٹور نے جماعت کے نام جماعت احمدیہ کے نام ا حسب ذیل پیغام دیا :- برادران جماعت احمد ہے ! السلام عليكم ورحمته الله و بركاته۔اس وقت جماعت پر اس کے دشمنوں نے ایک سخت حملہ کیا ہے اور حکومت کے کچھ کل پیر ز سے بھی اس میں شامل معلوم ہوتے ہیں۔احمدیت کے لئے پھر ایک ابتلاء کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔گورنمنٹ کے دلی دشمن جو اس کے ملازموں میں شامل ہیں ، انہیں ہماری جنگی خدمات نہیں بھائیں اور چونکہ کھلا مقابلہ وہ نہ کر سکتے تھے۔انہوں نے دوسرے اوچھے ہتھیاروں سے کام لین شروع کیا ہے۔چند دنوں تک حقیقت واضح ہو جائے گی۔میں زندہ رہوں یا مروں ، جماعت کی عزت کی حفاظت کے لئے آپ لوگوں کا ہر قربانی کرنا فرض ہے۔کیا پچاس سال شکست کھا کر دشمن ای غالب آجائے گا۔کیا آج احمدیت کا ایمان جماعت کو گذشتہ قربانیوں سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے کے لئے آمادہ نہ کرے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ میں سے ہر شخص کہے گا کہ ضرور ضرورہ اور آسمان آپ کی آواز پر تصدیق کرے گا اور احمدیت کے پوشیدہ دشمن ایک دفعہ پھر منہ کی کھائیں گے۔اچھا خدا حافظ آج بھی اور ہمیشہ ہی۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہادر بنو اور کسی انسان سے نہ ڈرو سوائے تعداد کے۔والست سلام " " خاکسار مرزا محمد و احمد ۲۰ له الفضل و احسان جون میش صفر تا ۵ : له " الفضل ۲۲ احسان جیون ساله بیش صفحه ۰۱ به ه ر +