تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 440
۴۲۹ اس واقعہ کی خبر ملکی پر میں نے نہایت گمراہ کن اور مسخ شدہ صورت میں شائع کی۔البتہ ملکی پریس میں ذکر ذکرہ اس شمالی ہند کے مشہور مسلمان اخبار انقلاب نے اپنے ایک شذرہ میں اس کے صحیح واقعات بیان کرنے کے بعد لکھا :- " یہ واقعات نہایت افسوسناک ہیں۔ہمیں فریقین میں کسی کے ساتھ بھی کوئی خصوصی تعلق نہیں لیکن آزادی تقریہ کے اس دور میں کسی جماعت کے جلسہ کو بزور تشت درہ کتنا کسی اعتبار سے بھی بھائز نہیں قرار دیا جا سکتا اور جس حالت میں جلسہ ہو چکا تھا اور قادیانی وہاں سے جا رہے تھے اس وقت اُن پر حملہ کرنا صریح بیوہ و فساد تھا جو کسی حالت میں حق بجانب نہیں ہو سکتا ، لے مظلوم احمدیوں کے خلا بھائی میں معاندین نے مل بھی کیا اور جب میں جماعت احمدیہ کے بزرگوں اور مقدمہ کا تکلیف دہ سلسلہ جلسہ میں شامل ہونے والے دوسرے احمدیوں کے خلاف پولیس میں جھوٹی رپورٹ بھی دے دی جس پر پولیس نے ہر دو فریق کے آدمیوں کا چالان کر دیا اور پندرہ سولہ مظلوم احمدی حین میں حضرت میر محمد الحق صاحب احضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صابر اور حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ جیسے بلند پایہ بزرگ بھی شامل تھے استغاث علیه گردان کا مقدمہ کے ایک نہایت تکلیف دہ سلسلہ میں اُلجھا دیئے گئے۔مقدمہ بھا مڑی کی عدالتی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ۱۳ تبوک استمبر پیش گو یعنی اصل واقعہ کے تقریباً دو ماہ بعد ہوا ہی چودھری محمد اسحق صاحب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسر بیٹے نے اس مقدمہ کی سماعت کی۔و نبوت رانو مبر پردیش کو عدالت نے زیر دفعات ۱۴۹۱۴۸، ۱۳۲۳ ۳۲۵ مندرجہ ذیل تیره احمدی اصحاب پره فرو بریم نگا دیا :- حضرت میر محمد اسحاق صاحب ناظر ضیافت -۲ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامه حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جٹ ) جنرل پریزیڈنٹ قادیان ۴ مولوی دل محمد صاحب مہتمم تبلیغ ۵ چودھری محمد نذیر صاحب لاہور ہاؤس قادیان به انقلاب جون ۱۹۳۳ بحواله الفضل ۲ و فار جولائی ر ی صفرا کالم 1 + " دو ش الفصل" هار تبوک استمبر سایش صفحه ۴