تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 438 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 438

۴۲۷ صاحب کے ساتھ موقعہ دکھانے کے لئے گئے تو اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے جو ہمارے جلسہ کے انتظام کے لئے بھا مڑی میں مقرر تھا سپرنٹنڈنٹ صاحب سے کہا کہ جب میں نشت باری کے موقعہ پر پہنچا تو میر صاحب اپنے لوگوں کو روک رہے تھے اور میں نے بھاڑی والوں کو روکا۔مگر مجھے معلوم نہیں کہ تحریری طور پر اسسٹنٹ سب انسپکڑنے کیا نوٹ درج کیا ہے ؟ البتہ سنا گیا ہے کہ ہمارے خلاف پولیس ہی کے بیان پر کارروائی کا آغاز ہوا ہے گو مخالفین کے خلاف ہماری رپورٹ پر کارروائی کی گئی ہے۔(۸) آخری بات میں احباب کی واقفیت کے لئے یہ کہتا ہوں کہ ہمارے گروہ میں اینٹوں کے ذریعہ تو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کے زخم خفیف ہیں۔اور گو اینٹوں کی وجہ سے ۴۰ ۵۰۰ کے قریب اشخاص کو معمولی چوٹیں آئی ہیں گر میں قدر اشخاص شدید زخمی ہوئے ہیں وہ ڈانگوں، تلواروں اور کر پانوں وغیرہ سے ہوئے ہیں اور یہ سب وہ لوگ ہیں جو خشت باری دیکھ کر بجائے آگے بڑھ کر خشت باری کے مقام سے گزر کر ہمارے بڑے مجمع میں آملنے کے بائیں طرف مقام سب کی طرف مڑ گئے تھے اور بڑے بھی الگ الگ یعنی خانصاحب اکیلے شاہ صاحب اکیلے اور باقی احباب بھی اکیلے اکیلے اور اس طرح دشمن بہشت باری کر کے اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گیا کہ اُس نے احمدیوں کے پچھلے حصہ کو اگلے حصہ سے الگ کر کے ایک ایک کو گھیر کر مار مار کر بیہوش کر دیا۔انا للهِ وَإِنا اليه رابوون اس میں ہم کو ایک سبق ملتا ہے کہ کبھی ہم لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا چاہئیے بلکہ خواہ مصیبت ہو یا کیسی سخت آفت ہو سب کو مل کر اکٹھے رہنا چاہئیے۔اس موقعہ پر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب مخالف خشت باری کہ رہے تھے ہمارے بعض نوجوان اُن کے مظالم کو دیکھ کر ایسے جوش میں تھے کہ اگر میں انہیں آگے بڑھنے کی اجازت دیتا تو یقیناً وہ مخالفوں کو اس شرارت کا مزا چکھا دیتے۔مگر میں نے باوجود مظلوم ہونے کے باوجود حق دفاع رکھنے کے باوجود قانون کی اجازت کے دوستوں کو روکے رکھا۔اور دوستوں نے بھی مجھے امیر جلسہ سمجھ کر میرے احکام کی تعمیل کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑے حادثہ سے ہم کو بچالیا۔اور ایک دفعہ پھر دنیا پر ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفا ر نے ایک انہی جماعت تیار کی ہے جس سے بڑھ کر امن پسند اور عافیت پسند دنیا میں اور کوئی جماعت نہیں۔مجھے میرے ساتھیوں میں سے بعض نے غصہ سے طعنہ دیا۔مگر سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس وقت صرف یہ خیال تھا کہ اگر میں با وجود قانون کی اجازت کے اپنے آدمیوں کو دفاع کی اجازت دوں تو قادیان میں جا کر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کو کیا مونہہ دکھاؤں گا۔اور میں نے اپنے دل