تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 429
۴۱۸ میں تھا جو موضع بھاڑی میں رہتا اور وہاں کا باشندہ ہے۔ہمارے و النٹیرز نے اس مکان کی چھت پر سائبان لگایا۔میز اور کرسیاں رکھیں اور قریب تھا کہ ہمیں تلاوت اور نظم کے بعد عیسہ کی کارروائی شروع کرتا کہ میں نے دیکھا کہ ارد گرد کی متصل چھتوں پر غیر احمدی نوجوان پڑھنے شروع ہوئے ہیں اور ان کی طرف سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہم کو گھیرنا چاہتے ہیں اور جلسہ میں مزاحم ہونا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ اس مکان کے مالک کو بلا کر دھمکایا گیا، وانخفض باوجود اس کے کہ وہ ایک احمدی کا بھتیجا تھا گاؤں والوں سے ڈر گیا۔۔۔۔اور اس نے آکر مجھے کہا کہ آپ یہاں جلسہ نہ کریں۔میں نے کہا کہ تم نے خود ہمیں اجازت دی تھی اب یہ اجازت واپس کیوں لیتے ہو۔وہ کہنے لگا۔کہ کیا کروں مجھے طاقت نہیں کہ گاؤں والوں کا مقابلہ کروں۔میں نے کہا کہ بہت اچھا۔یہ کہ کر میں نے طلباء سے کہا کہ یہا سے جانا کھیڑ لو، مینز اور گریسیاں اور صفین لے پھلو۔اس کے بعد ہم اس احمدی گھر میں گئے جو اکیلا اس گاؤں میں تھا۔یہ مکان بہت تنگ تھا مگر مجبوراً اس میں جلسہ کیا گیا اور چھت پر سائبان لگایا گیا اور نیچے سخت گرمی میں ہمارے آدمی بیٹھ گئے اور جلسہ شروع ہوا۔یہاں پہنچ کر مجھے رپورٹ دی گئی کہ صبح کو ہم سے پہلے بھی دو موقعوں پریہ گاؤں والوں نے جلسہ کے منتظمین سے مزاحمت کی۔ایک۔اس وقت جبکہ مکرم مولوی عبدا ارجمین سالب دیوی فاضل ٹانگہ میں بیٹھ کر اور سائیان وغیرہ سامان لے کر بھابڑی روانہ ہوئے تو ہر چودوال کے پل پر اس مجمع نے جس نے ہم کو رہ کا تھا اُن کے ٹانگہ کو بھی روکنا چاہا۔مگر وہ کسی نہ کسی طرح ان سے پھوٹ کر گاؤں میں داخل ہو گئے۔اسی طرح جب وہاں کے احمدی خاندان نے ایک مقامی باورچی کو کھانا پکانے پر مقرر کیا تو گاؤں والوں نے اُسے اس کام سے روک دیا۔پھر جب لنگر خانہ کے باورچی میاں مولا بخش صاحب کام کرنے لگے تو گاؤں والوں نے انہیں مارنا چاہا۔انہوں نے اپنی ٹوپی اتار کر اپنا سر ان کی طرف کر دیا کہ لو مار لو مگر مجھے کھانا پکانے دو۔بلکہ یہانتک سنایا گیا ہے کہ جب صبح کے وقت ایک کنسٹیبل جس کا نام او حسین، بتایا جاتا ہے افیر دردی کے ہر چو وال کے پل پر سے گذرنے لگا تو اُسے بھی احمدی سمجھ کہ روکا گیا مگر جب اس نے اپنی اصلیت ظاہر کی تب وہ گذر سکا۔غریم مزاحمت کا سلسلہ صبح سے شروع تھا بلکہ جیسا کہ آگے چل کر ظا ہر ہو گا اس سے بھی پہلے ہے۔ہمارے جلسہ کے مقابل مخالفین کا جلسہ بالآخر جب ہم نے مقامی احمدیوں کے مکان پر جلسہ شروع کیا۔اور تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد میں نے افتتاحی تقریر کی کہ مذہبی جماعتوں کو کبھی ہمت نہ ہارنی چاہیے اگر کسی جلسہ میں ایک شخص بھی تقریر سننے کے لئے نہ آئے تو یہ نہ سمجھا جائے کہ جلسہ ناکام رہا۔کیونکہ کامیابی اور ناکامی کا معیار یہ ہے کہ ہم نے نیک نیتی اور حسن عمل کے ساتھ کام کیا ہے یا نہیں۔اگر ہم نیت نیک رکھیں اور اپنی طرف سے کل و حق شنانے