تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 430 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 430

میں کوشاں رہیں تو ہم کامیاب ہیں۔خواہ کوئی سُنے یا نہ سُنے۔پس ہم نیک نیتی سے آئے اور حسن عمل کرتے ہوئے آئے۔ہمدردی سے آئے محض گاؤں والوں کی خیر خواہی سے، اور جب ایک جگہ جلسہ کرنے لگے تو ہمیں لوگوں نے روک دیا ہم تمام سامان وغیرہ لے کر یہاں آگئے۔اب ہم جلسہ شروع کرتے ہیں۔خواہ کوئی سنے یا نہ سُنے۔اس پر جلسہ شروع ہوا۔شروع میں میرے لڑکے محمود احمد نے تقریر کی اور پھر مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر نے تقریر کی۔ابھی وہ پندرہ بیں منٹ ہی بول سکے تھے کہ یکدم ہماری چھت کے بالکل متصل چھت پر چند غیر احمدی چڑھنے شروع ہو گئے۔اور مولوی محمد یعقوب بھابڑی والا ایک سائیاں لے کر آیا اور بجلدی سے سب نے مل کر سائبان لگایا۔اور میز اور کرسی لگا کر فیض اللہ شنالہ صدر بنا اور ایک شخص نے تلاوت قرآن مجید شروع کی۔اس پر باوجود اس کے کہ ہمارے لئے شریعاً ایسا کرنا ضروری نہ تھا۔میرے کہنے سے مولوی مبشر صاحب نے تلاوت کے احترام میں تقریمہ بند کر دی اور اونچی آواز سے کہا کہ قرآن مجید پڑھا جا رہا ہے اس لئے میں تقریر بند کرتا ہوں۔خیر احمدی تلاوت کننده دیر تک تلاوت کرتا رہا جب وہ تلاوت ختم کر چکا تو ہمارے ایک آدمی نے تلاوت شروع کی اور پھر نظم شروع کی گئی۔اور جب پھر مولوی صاحب تقریر شروع کرنے لگے تو غیر احمدیوں نے نعرے لگانے شروع کئے اور چونکہ وہ بالکل متصل چھت پر تھے اور دونوں چھتوں کے درمیان کوئی منڈیہ بھی نہ تھی اس لئے ان نعروں کی وجہ سے ہماری تقریہ کا ایک لفظ بھی سنا نہ بھا سکتا تھا۔اس پر میسہ کی کارروائی بند ہو گئی۔اور ہمارے دوست صلِ على محمد وغیرہ وغیرہ نظمیں پڑھنے اور اللہ اکبر وفیہ نعرے لگانے لگے۔پولیس افسر کا عجیب فیصلہ اتنے میں سنایاگیا کہ می گویند پور کے اسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس موقع پر پہنچ گئے ہیں دوو پولیس کانسٹیل پہلے پہنچ سکے تھے ، اس عرصہ میں قادیان سے جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ بھی تشریف لے آئے۔انہوں نے ، اس پولیس افسر کی علامت رقعہ لکھا کہ ہمارا ملا۔شروع تھا اور وہ بھی احمدی کے مکان پرہ۔مگر یہ احمدیوں نے بالکل متصل جلسہ شروع کر کے ہماری کارروائی کو بند کر دیا ہے۔اس کا انسداد کیا جائے۔اس درخواست کی دو کاپیاں تھیں کہ ایک پر رسیدی دستخط کر کے واپس کر دی جائے۔مگر اسسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب نے ہمارا رقعہ تو لے لیا مگر رسید دینے سے انکار کیا۔پھر دوبارہ رقعہ لکھ بھیجا۔اور پھر تیسرا رقعہ بھیجا گیا جس میں چند مفسدین کے سرغنوں کے نام بھی تھے۔اس وقت سب انسپکٹر ہمارے جلسہ میں تشریف لائے اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے اور غیر احمدیوں کو بلایا جس پر اُن کے چند آدمی آئے جن میں نام کشمیری سکنہ قادیان بھی تھا جو کہ ایک مقدمہ میں زیر ضمانت ہے۔اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے کہا کہ احمدیوں کا جلسہ پہلے سے