تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 428 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 428

میں قطار دار موضع مذکور کی طرف روانہ کیا گیا۔جب سب طلباء روانہ ہو گئے اور اُن میں کثرت کے ساتھ چھوٹے بیچتے اور حافظ کلاس کے نابینا بچے بھی شامل تھے تو میں خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب اور اپنے بچوں کو لے کر ٹانگر میں سوار ہو کہ روانہ ہوا۔اور طلباء کے ساتھ آملا۔اس وقت طلباء کی پہلی قطاروں کی طرف سے ایک طالب علم سائیکل پر آیا اور مجھے کہا کہ ہر چو وال کے نہر والے پل پر موضع بھا مڑی کے بہت سے آدمی راستہ رو کے کھڑے ہیں اور طلباء کو آگے جانے سے روکتے ہیں۔میں نے اس طالب علم کو کہا کہ تم ابھی بھا کر جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب کو اس واقعہ کی اطلاع دو۔اور یہ کہ کہ میں ٹانگہ سے اتر پڑا۔اور میں نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ ہمارے طلبا پل پروئے گے کھڑے تھے اور پل کے سامنے راستہ روک کر موضع بھاڑی کے ۳۰ ۴۰۰ آدمی لاٹھیاں لے کر مشتغل صورت بنائے ہوئے اونچی اونچی آواز سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے بھا بڑی میں جلسہ نہیں ہونے دینا۔اس مجمع میں بھابڑی کے مولوی محمد یعقوب اور اس کا بھائی محمد ابراہیم اور حاجی محمد حسین اور اس کا بھتیجا بھینی بھی موجود تھے جو سب مخالفین سلسلہ میں سے ہیں۔میں خاموشی سے آگے بڑھا اور ان کو ان کو کہا کہ تمام طلباء چار چار افراد کی قطار میں ہو کہ خاموشی اور امن کے ساتھ بھاڑی کی طرف چل پڑو۔یہ دیکھ کر جمع کے لوگ اعلان کے طور پر کہنے لگے کہ اچھا چلو گاؤں چلتے ہیں وہاں جا کہ دیکھتے ہیں کہ یہ جلسہ کس طرح کرتے ہیں۔اب فساد ہی ہوگا۔یہ آہ کہ وہ مختلفت فقروں میں فساد کا لفظ دہراتے ہوئے موضع بھا لڑکی کی طرت بجائے، استر پر جانے کے کھیتوں میں سے ہوتے ہوئے چل پڑے اور میں طلباء کو لے کے راستہ پر چل پڑا۔میں نے علاوہ خاموش رہنے کی ہدایت کے یہ بھی حکم دیا تھا کہ کوئی طالب علم کسی شخص کی طرف نہ دیکھے اور ہم سب نظریں سامنے رکھ کر میں پڑے۔چنانچہ قطار و الہ آہستہ آہستہ طلباء روانہ ہوئے جب تم مونہ بھاری میں پہنچے تو گاؤں سے باہر کھڑے ہو کر میری اقتدار میں سب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہر سے خدا ہمیں بخیر و عافیت اور عزت اور امن و سلامتی سے توفیق دے کہ ہم تیرا پیغام اس گاؤں تک پہنچا سکیں۔دعا کے بعد پھر ہم گاڈر کے اندر داخل ہوئے راستہ میں گاؤں کے ساتھ ایک سایہ ہزار افتاده کھلی جنگہ میں ایک بڑا مشتعل گروہ کھڑ ا تھا جو کہ ہمارے راستہ کے میں دائیں طرف تھا۔گزرتے وقت طلبا نے اس تجمع کی صرف نجوبہ کے رنگ میں نظر کی تو میں نے سختی سے کہا کہ خبردار کسی شخص کی طرف نظر نہ کرو۔یہ گردہ جو اُن لوگوں پر بھی مشتمل تھا جنہوں نے ہم کو نہر بچہ روکا تھا اُونچی اونچی آواز سے کہہ رہا تھا کہ ہم نے جلسہ نہیں ہونے دینا۔نہیں ہونے دینا۔ہم وہاں سے گزر کہ اس مکان میں داخل ہوئے جہاں جلسہ تجویز ہوا تھا۔جا سکے انعقاد میں روکاوٹیں یہ مکان ایک غیراحمدی کا تھا جو اس احمدی گھرانے کے قریبی رشتہ داروں