تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 406
۳۹۵ کو آخر تک نبھانے والے بزرگ تھے۔خط و کتابت کا سلسلہ برابر جاری رکھا۔میری بعض مجبوریوں کے باعث انہیں بجا شکوہ تھا کہ آپ کی طرف سے خطا دیر سے اور بہت کم آتے ہیں شیخ علی التفرقی نے مسلمہ کی خدمت کی ہر تحریک میں حصہ لیا اور احمدیت کے نام کو بلند کرنے کے کسی موقعہ کو ہاتھ سے نہیں کھو یا مرحوم مسن رسیدہ ہونے کے باوجود جفاکش اور شگفتہ دل تھے۔ان کا ایک برجستہ جواب مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ایک مرتبہ میرے پاس نابیکس کے چند اساتذہ آئے تھے۔اُن سے وفات سیح پر سلسلہ گفتگو شروع تھا حضرت شیخ علی مرحوم بھی موجود تھے۔اساتذہ میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہیں بتائیں کہ حضرت علی کی قبر کہاں ہے بایں نے کہا کہ کشمیر ی اور اس پر دلیل قرآنی دادینا هما یر إلى ربوة ذَاتِ قَرَارٍ معين موجود ہے۔وہ نوجوان استاد تعجب اور حقارت آمیز منجمدمیں کہنے لگا کہ حضرت عیسی فلسطین سے اتنی دور کشمیر میں کیسے چلے گئے ؟ میں ابھی جواب دینے نہ پایا تھا کہ مرحوم جلد بول اٹھے اور کہنے لگے حل كَانَتْ بِلاد الشامية ابعد من الشاعر کہ کیا کشمیر کا ملک آسمان سے بھی دور ہے ؟ اس پر سب ہنس پڑے اور اُس شخص کو شرمندہ ہو کر خاموش ہونا پڑا۔اور شیخ علی مرحوم کو الہ تعالی نے دینی امور میں نہایت عمدہ فرامت عطا فرمائی تھی اور جرات دلیری سے دین کا پیغام پہنچانا ان کا مرغوب مشغلہ تھا۔اُن کے گھر سے کیا بیر اٹھائی تین میل کے بلند پہاڑ پر واقع تھا۔مگر جب مدرسہ احمدیہ وہاں قائم ہوا تو اپنے چھوٹے بچے عبد الوہاب کو دہاں داخل کیا اور خود اس کے ساتھ جاتے تھے۔احمد یہ مطبعہ میں اپنے ہاتھ سے کام کرتے تھے۔اُن کے بڑے بیٹے سید خضر افندی القزق جماعت کے سیکرٹری مال ہیں۔الشیخ علی الفرق کے تینوں بیٹے نہایت مخلص اور سلسلہ کے خادم ہیں۔اُن کا گھر احدیت کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے یا نہ کی نئی مطبوعا اس سال جماعت کی طرف سے عرب ذیل ٹر پر شائع ہوا۔١٣٠٢١ ۶۱۹۴۲ ا مرکز احمدیت قادیان" مؤلفہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الیہ قادیان) اس کتاب میں مرکزہ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ ایسے موثر اور اچھوتے اور دلچسپ پیرایہ میں لکھی تھی کہ پڑھنے والوں کے سامنے قادیان کے قدیم اور جدید ادار کا پورا نقشہ کھچ جاتا تھا۔اور اسکے دل میں یہ خواہش پیدا ہو جاتی تھی کہ وہ ایک بار ضرور قادیان کی زیارت کرے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اس کتاب پر یہ تبصرہ فرمایا کہ: ایک سرسری نظر میں نے اس کے مضامین پر ڈالی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بہت سے الفضل ۲۴ فتح ۱۳۲۵ (۲۴ دسمبر ۱۹۴۲) صفحه ۰۴