تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 405 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 405

۳۹۴ میراحمدی علم کو یہ پینے قبول کرنے کی جرات نہ ہوسکی جس سے دمشق کے احمدیوں خصوصا تو مبائین کے ایمانوں میں اور بھی اضافہ ہوا۔مولوی محمد شریف صاحب دمشق میں تین ہفتہ قیام فرما ہونے کے بعد حمص تشریف لے گئے جہاں ایک ہفتہ تک پیغام احدیت پہنچاتے رہے۔ایک پرائیویٹ مناظرہ وفات مسیح پر بھی کیا۔آپ نے ایک مخالف عالم الشیخ ابو ذر نظامی (ہندی) کے گھر جا کر ان سے گفتگو کرنا چاہی گردہ کچھ ایسے مرعوب ہوئے کہ تبادلہ خیالات کیلئے آمادہ ہی نہ ہوئے۔اور یہ کہ کر انکار کر دیا کہ میں خلوت نشین آدمی ہوں مناظرہ کرنا نہیں چاہتا۔حالانکہ یہ وہ صاحب تھے جو ابتداء میں مرہ کڈمین کے سرخیل تھے۔مقصد میں مولوی محمد شریف ها رو موناکی بشپ آرتھوڈوکس اور پادری علینی سے واقعہ مصلیب کے موضوع پر گفتگو بھی ہوئی۔حمص سے ہو کہ آپ دوبارہ دس روز کے لئے دمشق میں تنزیل ہوئے۔اور رات دن تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔خطبہ عید الفطر مں جماعت کو قربانیوں کی طرف توجہ دلائی۔اور جمعہ کے خطبات میں رسالہ الوصیت " پڑھ کر سنایا۔جیسے شنکر الاستاذ منیر الحصنی صاحب نے دسویں حصہ کی وصیت کی اور اپنی منقولہ جائیداد کے دسویں حصہ کے طور پر دو سو شامی پونڈ نقد پیش کر دیئے۔مولوی محمد شریف صاحب شام میں ایک ماہ سات دن رہ کر اور نبوت کو واپس فلسطین پہنچ گئے بلے شیخ عل الفرق پریذیڈنٹ یا ایریا کی دنیا اس سال کے ریمی نالی کے امیر احدیوں کیسے ۶۱۵۴۷ ایک ممتاز بزرگ شیخ علی الفرق ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔مولوی ابو العطار صاحب نے اُن کی وفات پر لکھا :- "آپ ایک نہایت درجہ غیور احمدی تھے۔بسلسلہ کی محبت اُن کے رگ وریشہ میں کوٹ کوٹ گو بھری تھی حضرت امیر المومنین ایک اللہ تعالیٰ سے بہت ہی عقیدت تھی۔ہمیشہ حضور کی کامیابی کے لئے دعا کرتے تھے۔جس دن ڈاک ہندوستان سے جاتی تو پہلی خبر یہ پوچھتے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کے متعلق کیا اطلاع ہے ، نہایت زاہد اور متوکل انسان تھے۔ریلوے میں ملازم تھے مگر آخر ریٹائر ہو چکے تھے۔اس وقت ان کی انتہائی خواہش یہ تھی کہ قادیان ہجرت کر کے چلے جائیں۔مجھ سے بارہا اس نیت کا ذکر کیا۔چنانچہ جب میں اور میں ہندوستان واپس آنے لگا تو رو کر کہنے لگے کہ وہ دن کب آئیگا جب ہم بھی دارالامان روانہ ہونگے۔انہیں جملہ مبلغین و خادمان دین سے تہی محبت تھی۔میرے قیامی فلسطین کے عرصہ میں روزانہ بلاناغہ تشریف لاتے اور جب کبھی نہ آئیں تو میں سمجھتا کہ بیمار ہونگے میں اُن کے مکان پر پہنچتا۔دوستی اور بھی محبت الفضل، ار فتح ۱۳۲ (۱۷ار دسمبر ۶۱۹۴۲ صفحه ۵ + ها ۴۵