تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 377
٣٦٩ نظام نو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے۔خلاصہ یہ کہ میں نے بتایا ہے حقیقت جاری ہے اس تمام نظام پر جو اسلام نے قائم کیا ہے بعض لوگ غلطی یہ خیال کرتے ہیں کہ جیت کا مال اشرفی انسان اسلام کےلئے ہے گریہ بات درست نہیں دویت تلفظی است و عملی اشاعت دونوں کے لئے ہے جس طرح اس میں تبلیغ شامل ہے اسی طرح اُس میں اس نئے نظام کی تکمیل بھی شامل ہے جس کے ماتحت ہر فرد بشر کی باعزت روزی کا سامان مہیا کیا جائے۔جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے فشار کے اتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اُس سے پورا کیا جائیگا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائیگا انشاء اللہ یتیم بھیک نہ مانگے گا۔بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھے نہ پھیلائے گی۔بجے سامان پیشان نہ پھرے گا۔کیونکہ دقیقت بچوں کی ماں ہوگی جوانوں کی باپ ہوگی۔عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبیر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس کے ذریعہ سے مدد کرے گا۔اور اس کا دنیا ہے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالے سے بہتر بدلہ پائیگا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا۔نہ غریب۔نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر دینی ہوگی ! پس اسے دوستو ! دنیا کا نیا نظام نہ مسٹر چرچل بنا سکتے ہیں نہ مسٹر روز ویلٹ بنا سکتے ہیں۔یہ اٹلانٹک چارٹر کے دعوے سب ڈھکوسلے ہیں۔اور اس میں گئی نقائص ، گئی عیوب اور کئی خامیاں ہیں۔نئے نظام رہی لاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔کین کے دلوں میں نہ امیر کی دشمنی ہوتی ہے نہ غریب کی بے جا محبت ہوتی ہے جو نہ مشرقی ہوتے ہیں نہ مغربی۔وہ خدا تعالے کے پیغامبر ہوتے ہیں اور وہی تعلیم پیش کرتے ہیں جو امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہوتی ہے۔پس آج رہی تعلیم امن قائم کرے گی جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آئی ہے اور جس کی بنیاد الوحیة کے ذریعہ 190 ء میں رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پس اے دوستو جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے سمجھ لو کہ آپ لوگوں میں سے جس جس نے اپنی اپنی جگہ وصیت کی ہے، اس نے نظام نو کی بنیاد رکھ دی ہے اس نظام نوئی جو اُس کی اور اُس کے خاندان کی حفاظت کا بنیادی پتھر ہے اور میں میں نے تحریک جدید میں حصہ لیا ہے اور گر وہ اپنی ناداری کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکا تو وہ اس تحریک کی کامیابی کیلئے